Thursday, November 28, 2013

لام۔گاف۔الف (LGO)، ٹوٹی سڑکیں اور پھوٹی قسمت۔۔۔ ہاۓ کراچی



عجب دن ہے آج کا صبح سے ہی محۃرمہ اہلیہ صاحبہ کے مزاج کچھ آثارِقیامت سے کم محسوس نہیں ہو رہے تھے تو ہم نےبند کمرے لمبی تان کے سونے میں ہی عافیت جانی۔۔۔۔ نیند تو بلا کی شاندار تھی مگر ساتھ ہی جاگنے کے بعد ہونے والے سلوک کا خوف بھی دل میں کہیں دور بہت دور خوب بھنگڑے ڈال رہاتھا۔۔ خیر اُسی خوف کے خوف سے آنکھ کھل ہی گئ۔۔۔ عادت سے مجبور سو کے اُٹھتے سب سے پہلے موباٴیل فون ہاتھ میں آیا اود جو پہلا بٹن دبا تو ہم جاپہنچے سیدھے تحریکِ انصاف کے دوستوں کی پسندیدە جگہ۔۔۔۔ سمجھ تو آپ حضرات گٴے ہی ہوں گے؟؟؟؟ ارے نہیں حضور آج پشاور اور خ۔پ۔خ کا زکر رکھا ہی نہیں ہےہم نے اپنے بلاگ میں اور اُسکی وجہ صرف اور صرف اپنی چرب زبان کواُن الفاظ سے دور رکھنا ہے جن میں پ۔ت۔ا (PTI) کے کچھ دوستوں کی گھر کی خواتین کا زکر کبھی کبھار آجایا کرتا ہے۔۔۔خیر تو جناب زکر تھاموباٴیل کے بٹن کا تو ہم جا پہنچے سیدھے ٹوٴیٹر (Twitter) پے اب یہاں جو منظر دیکھتے ہیں تو بس ایسا لگتا ہے کےبیوی کا خوف تو کہیں دور رە گیا اود ہر طرف بس اِک شور مچا ہےاورقریباً ہر دوسری ٹوٴیٹ (Tweet) اور ہیش ٹیگ (Hashtag) بس مذمت کر رہےہیں کسی لام۔گاف۔الف میرامطلب ہےکسی LGO نامی چیز کا۔۔۔ تفصیلات کے نہ جاننے تک تو گمان کچھ یوں ہی ہوا کہ ہماری اہلیہ محترمہ کسی طرح ہماری سب سے پُرسکون پناە گاە یعنی کے ٹوٴیٹر تک پہنچ چکی ہیں اور اب ان کے جلال سے ہمیں مردِآھن جنابِ شاہد حیات بھی نہیں بچا سکتے کیونکہ آپ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں میں اِس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کے اِس ملک میں ٹوٴیٹر (Twitter) اور ہیش ٹیگ (Hashtag) کی وە طاقت ہے جس سےگزشتہ اگست میں ہونے والی بارشوں میں ایک سیاسی جماعت کے کچھ کارکنان گھر بیٹھے ہیش ٹیگ (Hashtag) کے زریعے کلفٹن ڈیفنس تو کُجا گلستانِ جوہر اور گلشنِ اقبال اور دور دراز علاقوں سے بھی پانی نکالتے نظر آۓ اُس پر غضب یہ کہ اُسی جماعت میں کام کرنے والے کچھ دندان ساز اپنے ان کارکنان کو اس عظیم کارنامہ پےداد دیتے پاۓ گۓ۔۔۔۔

دنیا نہ جانے کیوں ہمیں اتنا کمتر،کمزور، اور علم و ہنر سے عاری قوم سمجھتی ہےجب کے ہم تو سوشل میڈیا (Social Media) جیسی ایک فضول شہ جس پہ ہماری سرکار ہر گزرتے دن پابندی لگانے کے موقعے ڈھونڈتی ہے سے نکاسیِ آب جیسا کام گھر بیٹھے ہی کر گُزرتے ہیں اور پورا مغرب اور خلیج کے اپنے مسلمان ممالک اِس چھوٹے سے کام کے لیۓ بھاری بھرکم مشینری اور ٹیکنالوجی کےاستمعال سے باز نہیں آتے ہماری ترقی یافتہ سوچ کا عالم تو یہ ہے کےگزشتہ ہفتہ رواں ماە کی ٢٣ تاریخ کو پشاور میں ایک عظیم و الشان دھرنے کا اہتمام کیا گیا جسکا مقصد نیٹو سپلائ کی پاکستان میں بندش تھا۔۔۔۔۔ دھرنوں کے زریعے سرکار ٹاٴیپ آٴیٹمز کا دھڑن تخۃ کرنے کا سوچ رکھنے والی جماعت اور اُن کے اِتحادی کچھ جماعتی  اور شیخ صاحب پشاور میں دھرنے کے مقام پے پہنچ کے اُس وقت دنگ بلکہ دبنگ رە گۓ جب وہاں کچھ ہزار افراد کو ہی موجود پایا۔۔۔۔ اب سوال یہ تھا کے آیا اِس دھرنے کا بجٹ کم تھا یا پھر منتظمین اپنے کارکنوں یہ بتانا بھول گۓ تھے کے یہ دھرنا اصل میں پشاور میں ہے پ۔ت۔ا (PTI) کے دوستوں کی پسندیدە جگە ٹوٴیٹر (Twitter) پے نہیں اور نیٹو کے کنٹینرز بارش کا پانی نہیں جو گھر بیٹھے ہیش ٹیگز (Hashtags) کے زریعے روکے جا سکیں۔۔۔ 

خیر جناب قصہ مختصر یہ کہ جب ہم نے غور کیا تو اندازە ہوا کے یہ (LGO) مقامی حکومت سے متعلق کسی نۓ قانون کا معاملہ ہے۔۔۔ اب قانون کی سمجھ مجھ جیسے ایک کم عقل اور کم علم والے پاکستانی کوکہاں۔۔۔اگر قانون کی اتنی ہی سمجھ ہوتی تو چار دفعہ رانگ ساٴیڈ موٹر ساٴیکل چلا کے صحیح راستے آنے والے حضرات کی گاڑیوں سے نہ ہی کبھی ٹکراتا اور نہ ہی کبھی اُن حضرات سے جھگڑتا۔۔۔۔ یہ قانون تو بس اسمبلیوں میں بیٹھےکچھ حضرات اپنی روزی حلال کرنے کے لۓبنا تے ہیں اور ویسے بھی کوٴی صاحب کیا خوب فرما گۓ ہیں کہ "قانون تو بناٴے ہی جاتے ہیں توڑے جانے کےلۓ" جیسے کے ہماری سڑکیں، پُل اور انڈرپاس اب دیکھیے نا کیا حال بنا ہوا ہے اپنے اُسی کراچی کا جس پے کچھ دن پہلے تک ہی میں اور آپ کتنافخر کیا کرتے تھے۔۔۔۔ میں ایک عام شہری کی حیثیت سے نہ ہی جانتا ہوں نہ ہی جاننا چاہتا ہوں کہ LGO کِس بلا کا نام ہےمجھے تو غرض ہے تو بس اِس بات سے کہ میرے گھر تک آنے والی سڑک کب بنے گی، میرے محلے کے بہتے گٹر کب بند ہوں گے اور میرا منتخب نُماٴیندە کب سکیورٹی رسک نہیں بلکہ میری سکیورٹی کا ضامن ہوگا؟؟؟؟ مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوں گے یا نہیں، آمریت آۓ گی یا جمہوریت رہے گی اِک عام شہری کو اِس سے فرق نہیں پڑتا اُسے تو چاہیے ہے اپنے مساٴیل کا حل جو اُسے کوئ بھی دے۔۔۔۔

آپ میں سے وە تمام لوگ جو ٨٠ کی دہائ میں اپنے ہوش و حواس میں تھے میری اِس بات سے مکمل اتفاق کریں گے کہ ایم کیو ایم (MQM) کے قاٴید جناب الطاف حسین صاحب "ہفتہِ صفائ" نامی ایک ایکٹیوٹی کیا کرتے تھے یہ سوچے بغیر کے اُن کی جماعت جسے وە ہمیشہ تحریک کہا کرتے تھے وە صوبائ حکومت کا حصہ ہے یا مقامی حکومت کا بس وە خود کھڑےہو کے اپنے کارکنوں کے ساتھ یہ شہر صاف کیاکرتے تھے مگر آج جب وہی جماعت ہیشٹیگ (Hashtag) کے زریعے LGO نامی کسی چیز کا راستہ روکنے کی کوشش اور پھر ایک پریس کانفرنس کےزریعے اِس کی مزمت کر تی تو کیا اتناکرنا ایک عام شہری کے مسا ٴیل کو حل کرنے کے لۓ کافی ہوتا ہے؟؟؟ کیا اک جماعت جس کا قاٴید الطاف حسین جیسا وژن رکھنے والا اک شخص ہو اُسے اپنے ووٹرز کے بنیادی مساٴیل سے یوں ہی غافل ہونا چاہیۓ؟؟؟ 

حضور قانون ضرور بنایۓ مگر کبھی اُس شہر اور اُس گلی کی خبر بھی لے لیجیۓ جسے کبھی آپ نے اور آپ کے بڑوں نے ہی بنایا تھا۔۔۔



2 comments:

  1. Altaf Bhai aur khan sahab ki pohanch se dur rakhain tabiat ziada kharab ho to kisi se bhi mil lain....

    ReplyDelete
  2. INDEED discipline, patience & grace is in our own hands, which is missing from this The City of Intellectuals :(

    ReplyDelete