کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر مجھے تو اب لگنے لگا ہے کہ پاکستانی سیاست کا دماغ بھی نہیں ہوتا۔۔ کہنے کو تو میرا دل بھی بہت کچھ چاہتا ہے مگر کیا کروں صاحب نہ تو میں کسی پارٹی کا چئیرمین ہوں نہ ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نہ سندھ کا وزیرِجیل خانہ جات نہ پاکستان کا وفاقی وزیرِ داخلہ اور نہ ہی کسی مزہبی جماعت کا امیر۔۔ میں تو غریب ہوں بلکہ عجیب و غریب جسے صبح کی روشنی نکلنے سے رات کی تاریکی طاری ہونے تک ہر تاریخ دن اور مہینہ بہتری کی ایک امید کے سہارے گزارنی پڑتی ہے۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میری پھر بھی مزے میں گزر جاتی ہے اور پھر ایک دن میں ہی گزر جاتا ہوں۔۔
خیر گزرنا تو سب کو ہی ہے وہ بھی بنا کسی پروٹوکول کے چاہے انسان ہو یا حکومت اور اُنہیں بھی جنہیں خود کے انسان ہونے کا گمان ہے۔۔ جی جی آپ بلکل سہی سمجھے میرا اشارە اپنے حکمرانوں کی طرف ہی تھا۔۔ خیر اشارے کرنے سے اُنہیں کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ امی کہتی تھیں "اشارە صرف عقلمندوں کے لئے" سمجھ تو گئے ہوں گے آپ۔۔
بہرحال عقل ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ہونا تو بس مینڈیٹ چاہیئے کیونکہ ویسے بھی جب خدا حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے اور نزاکت بھی ایسی کہ بھئی واە۔۔ کہتے ہیں مینڈیٹ اور کچی شراب کا نشہ مرنے کے بعد ہی اترتا ہے اور اِن دونوں نشوں میں چُور ہو کر مرنے والے کو شہید کہا جاتا ہے۔۔۔ جی جی بلکل اُسی طرح جس طرح کچھ ماە پہلے امریکہ کے ہاتھوں مرنے والا کتا بھی شہادت کے رتبے پر فائز کروایا گیا تھا خیر وە تو مولانا ہیں جسے جب اور جہاں چاہیں فائز کرواسکتے ہیں اور ویسے بھی ہیں تو وە بہرحال اسی پاکستانی سیاست کے ایک کھلاڑی جسے کھیلنے کے لئے عقل کا ہونا شائید آخری شرط ہوتی ہے اِسی لئے ہمارے مُلک کے بڑے بڑے سیاستدان آج تک یہ ہی سمجھتے ہیں کہ واقعی گاڑی پانی سے چل سکتی ہے اور شائید یہی وجہ ہے کہ اگلی عالمی جنگ پانی پر ہونی ہو تیل پر نہیں۔۔ حالت تو یہ ہے کہ کوئی سیاستدان اعلٰی عدلیہ کو گالی نکالتا ہے اور جب عدالت طلب کرے تو پیشی پے پہنچ کر اپنی ہی کہی ہوئی بات سے مکر جاتا ہے اور کہیں تو حال یہ ہے ایک صاحب ملک میں آباد ایک طبقے کو ہی گالی کا درجہ دے دیتے ہیں۔۔
اسے میری بد قسمتی جانئیے یا حُسنِ اتفاق سمجھئیے میرا تعلق بھی اِسی گالی سے ہے اور میں اِس گالی کی دوسری نسل ہوں۔۔ یعنی دوسرے الفاظ میں آپ مجھے "مہاجر کا بچہ" لکھ، پڑھ، سمجھ اور پکار سکتے ہیں۔۔ اِس کے علاوە آپ اپنے مزاج کی گرمی اور غصے کی شدت کے مطابق اس گالی کے ہمراە مختلف صیغوں، سابقوں اور لاحقوں کا استمعال فرما کر دل کی بھڑاس مزید دل کھول کر بھی نکال سکتے ہیں جیسے کہ "تم اتنے مہاجرکیوں ہو یار"، "بہت ہی کوئی مہاجر کا بچہ ہے تُو"، "بندە سب کچھ ہو مہاجر نہ ہو" یا پھر اپنے خان صاحب کے انداز میں اس گالی سے پہلے "اوئے" کا استمعال کر کے اِس گالی یعنی کے لفظ مہاجر کو چار چاند بھی لگائے جا سکتے ہیں۔۔
میری نظر میں کسی کو گالی دینے اور کسی کے وجود کو ہی گالی بنا دینے میں بڑا فرق ہوتا ہے اور وہی فرق اب مزید واضح ہوتا نظر آرہا ہے جیسے کہ اِس گالی مہاجر کو ماضیِ بعید میں ہندوستانی جبکہ ماضیِ قریب میں مکڑ، مٹروے اورپناە گیر کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا تھا حالانکہ اگر پاکستان ١٩۴٧میں بن چکا تھا تو یہاں رہنے والے تمام ہی لوگوں کو پاکستانی کہا اور پکارا جانا چاہئیے تھا اور جب یہ تمام "ہندوستانی" پاکستان بننے کے بعد سے مختلف ادوار میں سندھ آکر یہاں رچ بس گئے تھے تو اُنہیں پہلے ہی سندھی مان لیا جاتا اور ستر کی دہائی تک اگر اُنہیں مکڑ مٹروا یا پناە گیر نہ کہا جاتا تو کیا اُنہیں واقعی اِس مہاجر شناخت کی ضرورت پڑتی جسے آج ایک گالی گردانا جا رہا ہے۔۔ بہرحال ہمارے کچھ سیاسی دوست جن کا دعوٰی ہے کہ وە گزشتہ کچھ دہائیوں سے مہاجروں کی نمائندگی فرما رہے ہیں وە الگ بات ہےکہ مجھ جیسے کچھ ناخلف احباب کی نظر میں مہاجروں کو اِس نمائندگی سے فائدے کم اور نقصان زیادە اُٹھانے پڑے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ شائید مہاجر قومی موومنٹ کو متحدە میں تبدیل کرنا تھی۔۔ بہرکیف اس بات پر پھر کبھی اپنےخیالات اگلی کسی تحریر میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔۔
جہاں تک بات ہے متحدە کے مہاجر کارڈ استمعال کرنےیا مہاجر قومی موومنٹ کی طرف واپسی کی تو بھائی مت بھولئے کہ الیکشن ٢٠١٣ کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں ووٹ کی تقسیم صرف اور صرف لسانی بنیادوں پر ہی ہے ورنہ اے این پی پنجاب سے، نواز لیگ سندھ سے جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پنجاب اور کے پی کے سے ضرور کامیاب ہوتی اور سب سے بڑھ کر پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنا چئیرمین لانچ کرنے کے لئے اُسے ایک سندھی قوم پرست لیڈر کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔۔
خیر صاحب زکر تھا گالی کا تو بات اب گالی سے نکل کر بہت دور کہیں توہینِ رسالت تک جا پہنچی ہے اور گالی والے اس بیان کا مہاجر سیاسی پنڈتوں نے جب جائزە لیا ہوگاتو اس کے قریباً سارے ہی پہلو زیرِ بحث آئے ہوں گے جس میں شائید سب سے مضبوط پہلو ہی اس بیان کو مزہبی تناظر میں دیکھنا اور دکھانا قرار پایا ہوگا۔۔ بس پھر کیا تھا جیسے ہی اس تناظر میں بات شروع ہوئی مجھ سمیت سارے ہی لبرل نمونوں نے ایم کیو ایم کے لبرل پارٹی ہونے کے باوجود متحدە کے اس اقدام پر سخت تنقید شروع کر دی مگر یہ بھول گئے کہ یہ سیاست کے کھیل ہیں اور سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوا کرتا ہاں اگر سیاست کرنے والوں کی کھوپڑی میں دماغ ہو تو مخالفوں کو ایسے مواقع ملیں ہی کیوں۔۔ جہاں تک بات ہے ایم کیو ایم کے "آرٹیکل ٢٩۵سی" کو اپنے سیاسی مقاصد کےلئے استمعال کرنے کی تو اُس کا تو میں بھی مخالف ہوں مگر جناب جب پورا ملک اسی قانون کو اپنے مقاصد کے لئے استمعال کرے تو اس کیخلاف آواز اٹھانا تو دور اپنے ہی دورِ حکمرانی میں اپنی پارٹی کے گورنر سلمان تاثیر کی ممتاز قادری نامی گنمین نما دہشت گرد کے ہاتھوں شہادت پر اسی لبرل پارٹی کو سانپ سونگھ جاتا ہے، ایک دہائی سے زیادە عرصے ملک پر حکومت کرنے کے باوجود اِس قانون کو بہتر شکل دینے کے لئے عملی اقدامات نہ اٹھانا بھی اس پارٹی کے لبرل ہونے کے داعوں پر ایک سوالیہ نشان لگاتا ہے اور جناب جب آپ اپنے نومولود پارٹی چئیرمین کے ساتھ لندن میں ہونے والی انڈە ٹماٹر تواضع کے بعد مخالفین کو "بھارتی ایجینٹ اور کشمیر کاز کا دشمن" قرار دے سکتے ہیں جو پیپلز پارٹی کا وطیرە ہی نہیں تو پھر اپنے مخالفین سے بھی کسی بھی حد تک جانے کی امید رکھئیے کیونکہ صاحب ہے تو یہ سیاست ہی۔۔
AK
Sent from my iPad