Sunday, November 9, 2014

سیاسی گالم گلوچ


کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر مجھے تو اب لگنے لگا ہے کہ پاکستانی سیاست کا دماغ بھی نہیں ہوتا۔۔ کہنے کو تو میرا دل بھی بہت کچھ چاہتا ہے مگر کیا کروں صاحب نہ تو میں کسی پارٹی کا چئیرمین ہوں نہ ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نہ سندھ کا وزیرِجیل خانہ جات نہ پاکستان کا وفاقی وزیرِ داخلہ اور نہ ہی کسی مزہبی جماعت کا امیر۔۔ میں تو غریب ہوں بلکہ عجیب و غریب جسے صبح کی روشنی نکلنے سے رات کی تاریکی طاری ہونے تک ہر تاریخ دن اور مہینہ بہتری کی ایک امید کے سہارے گزارنی پڑتی ہے۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میری پھر بھی مزے میں گزر جاتی ہے اور پھر ایک دن میں ہی گزر جاتا ہوں۔۔ 

خیر گزرنا تو سب کو ہی ہے وہ بھی بنا کسی پروٹوکول کے چاہے انسان ہو یا حکومت اور اُنہیں بھی جنہیں خود کے انسان ہونے کا گمان ہے۔۔ جی جی آپ بلکل سہی سمجھے میرا اشارە اپنے حکمرانوں کی طرف ہی تھا۔۔ خیر اشارے کرنے سے اُنہیں کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ امی کہتی تھیں "اشارە صرف عقلمندوں کے لئے" سمجھ تو گئے ہوں گے آپ۔۔ 

بہرحال عقل ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ہونا تو بس مینڈیٹ چاہیئے کیونکہ ویسے بھی جب خدا حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے اور نزاکت بھی ایسی کہ بھئی واە۔۔ کہتے ہیں مینڈیٹ اور کچی شراب کا نشہ مرنے کے بعد ہی اترتا ہے اور اِن دونوں نشوں میں چُور ہو کر مرنے والے کو شہید کہا جاتا ہے۔۔۔ جی جی بلکل اُسی طرح جس طرح کچھ ماە پہلے امریکہ کے ہاتھوں مرنے والا کتا بھی شہادت کے رتبے پر فائز کروایا گیا تھا خیر وە تو مولانا ہیں جسے جب اور جہاں چاہیں فائز کرواسکتے ہیں اور ویسے بھی ہیں تو وە بہرحال اسی پاکستانی سیاست کے ایک کھلاڑی جسے کھیلنے کے لئے عقل کا ہونا شائید آخری شرط ہوتی ہے اِسی لئے ہمارے مُلک کے بڑے بڑے سیاستدان آج تک یہ ہی سمجھتے ہیں کہ واقعی گاڑی پانی سے چل سکتی ہے اور شائید یہی وجہ ہے کہ اگلی عالمی جنگ پانی پر ہونی ہو تیل پر نہیں۔۔ حالت تو یہ ہے کہ کوئی سیاستدان اعلٰی عدلیہ کو گالی نکالتا ہے اور جب عدالت طلب کرے تو پیشی پے پہنچ کر اپنی ہی کہی ہوئی بات سے مکر جاتا ہے اور کہیں تو حال یہ ہے ایک صاحب ملک میں آباد ایک طبقے کو ہی گالی کا درجہ دے دیتے ہیں۔۔

اسے میری بد قسمتی جانئیے یا حُسنِ اتفاق سمجھئیے میرا تعلق بھی اِسی گالی سے ہے اور میں اِس گالی کی دوسری نسل ہوں۔۔ یعنی دوسرے الفاظ  میں آپ مجھے "مہاجر کا بچہ" لکھ، پڑھ، سمجھ اور پکار سکتے ہیں۔۔ اِس کے علاوە آپ اپنے مزاج کی گرمی اور غصے کی شدت کے مطابق اس گالی کے ہمراە مختلف صیغوں، سابقوں اور لاحقوں کا استمعال فرما کر دل کی بھڑاس مزید دل کھول کر بھی نکال سکتے ہیں جیسے کہ "تم اتنے مہاجرکیوں ہو یار"، "بہت ہی کوئی مہاجر کا بچہ ہے تُو"، "بندە سب کچھ ہو مہاجر نہ ہو" یا پھر اپنے خان صاحب کے انداز میں اس گالی سے پہلے "اوئے" کا استمعال کر کے اِس گالی یعنی کے لفظ مہاجر کو چار چاند بھی لگائے جا سکتے ہیں۔۔ 

میری نظر میں کسی کو گالی دینے اور کسی کے وجود کو ہی گالی بنا دینے میں بڑا فرق ہوتا ہے اور وہی فرق اب مزید واضح ہوتا نظر آرہا ہے جیسے کہ اِس گالی مہاجر کو ماضیِ بعید میں ہندوستانی جبکہ ماضیِ قریب میں مکڑ، مٹروے اورپناە گیر کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا تھا حالانکہ اگر پاکستان ١٩۴٧میں بن چکا تھا تو یہاں رہنے والے تمام ہی لوگوں کو پاکستانی کہا اور پکارا جانا چاہئیے تھا اور جب یہ تمام "ہندوستانی" پاکستان بننے کے بعد سے مختلف ادوار میں سندھ آکر یہاں رچ بس گئے تھے تو اُنہیں پہلے ہی سندھی مان لیا جاتا اور ستر کی دہائی تک اگر اُنہیں مکڑ مٹروا یا پناە گیر نہ کہا جاتا تو کیا اُنہیں واقعی اِس مہاجر شناخت کی ضرورت پڑتی جسے آج ایک گالی گردانا جا رہا ہے۔۔ بہرحال ہمارے کچھ سیاسی دوست جن کا دعوٰی ہے کہ وە گزشتہ کچھ دہائیوں سے مہاجروں کی نمائندگی فرما رہے ہیں وە الگ بات ہےکہ مجھ جیسے کچھ ناخلف احباب کی نظر میں مہاجروں کو اِس نمائندگی سے فائدے کم اور نقصان زیادە اُٹھانے پڑے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ شائید مہاجر قومی موومنٹ کو متحدە میں تبدیل کرنا تھی۔۔ بہرکیف اس بات پر پھر کبھی اپنےخیالات اگلی کسی تحریر میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔۔


جہاں تک بات ہے متحدە کے مہاجر کارڈ استمعال کرنےیا مہاجر قومی موومنٹ کی طرف واپسی کی تو بھائی مت بھولئے کہ الیکشن ٢٠١٣ کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں ووٹ کی تقسیم صرف اور صرف لسانی بنیادوں پر ہی ہے ورنہ اے این پی پنجاب سے، نواز لیگ سندھ سے جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پنجاب اور کے پی کے سے ضرور کامیاب ہوتی اور سب سے بڑھ کر پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنا چئیرمین لانچ کرنے کے لئے اُسے  ایک سندھی قوم پرست لیڈر کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔۔ 


خیر صاحب زکر تھا گالی کا تو بات اب گالی سے نکل کر بہت دور کہیں توہینِ رسالت تک جا پہنچی ہے اور گالی والے اس بیان کا مہاجر سیاسی پنڈتوں نے جب جائزە لیا ہوگاتو اس کے قریباً سارے ہی پہلو زیرِ بحث آئے ہوں گے جس میں شائید سب سے مضبوط پہلو ہی اس بیان کو مزہبی تناظر میں دیکھنا اور دکھانا قرار پایا ہوگا۔۔ بس پھر کیا تھا جیسے ہی اس تناظر میں بات شروع ہوئی مجھ سمیت سارے ہی لبرل نمونوں نے ایم کیو ایم کے لبرل پارٹی ہونے کے باوجود متحدە کے اس اقدام پر سخت تنقید شروع کر دی مگر یہ بھول گئے کہ یہ سیاست کے کھیل ہیں اور سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوا کرتا ہاں اگر سیاست کرنے والوں کی کھوپڑی میں دماغ ہو تو مخالفوں کو ایسے مواقع ملیں ہی کیوں۔۔ جہاں تک بات ہے ایم کیو ایم کے "آرٹیکل ٢٩۵سی" کو اپنے سیاسی مقاصد کےلئے استمعال کرنے کی تو اُس کا تو میں بھی مخالف ہوں مگر جناب جب پورا ملک اسی قانون کو اپنے مقاصد کے لئے استمعال کرے تو اس کیخلاف آواز اٹھانا تو دور اپنے ہی دورِ حکمرانی میں اپنی پارٹی کے گورنر سلمان تاثیر کی ممتاز قادری نامی گنمین نما دہشت گرد کے ہاتھوں شہادت پر اسی لبرل پارٹی کو سانپ سونگھ جاتا ہے، ایک دہائی سے زیادە عرصے ملک پر حکومت کرنے کے باوجود اِس  قانون کو بہتر شکل دینے کے لئے عملی اقدامات نہ اٹھانا بھی اس پارٹی کے لبرل ہونے کے داعوں پر ایک سوالیہ نشان لگاتا ہے اور جناب جب آپ اپنے نومولود پارٹی چئیرمین کے ساتھ لندن میں ہونے والی انڈە ٹماٹر تواضع کے بعد مخالفین کو "بھارتی ایجینٹ اور کشمیر کاز کا دشمن" قرار دے سکتے ہیں جو پیپلز پارٹی کا وطیرە ہی نہیں تو پھر اپنے مخالفین سے بھی کسی بھی حد تک جانے کی امید رکھئیے کیونکہ صاحب ہے تو یہ سیاست ہی۔۔



AK
Sent from my iPad


Tuesday, October 21, 2014

بول جیو بول

بول جیو بول

ہائے وە بھی کیا دن تھے جب ہمارے گھروں میں لڑنے جھگڑنے اور لگائی بُجھائی کا کام صرف خواتین کے ذمہ ہوا کرتا تھا۔۔ کہیں ساس بہو کا جھگڑا تو کہیں نند اور بھابھی کا پھڈا۔۔ وقت بدل گیا، بلیک اینڈ وہائیٹ ٹی وی کی جگہ بڑی بڑی ایل سی ڈی اسکرینز نے لے لی اور بڑے بڑے تاروں والے ٹیلیفونوں کے بدلے پیارے معصوم نازُک مزاج اسمارٹ فونز نے لیلی۔۔

اب جب سب کُچھ بدل ہی رہا تھا تو پھر پھاپھے کُٹنیاں کیسے پیچھے رہتیں؟؟؟ تو بس کیا تھا نکل پڑیں بھیس بدل کر ٹیکنالوجی کا سہارا لئے ٹی وی اینکر کا بھیس بدلے آگ لگانے اور لگی لگائی آگ کو مزید بڑھاوا دینے۔۔ ارے آگ سے یاد آیا ہمارے ٹی وی پر "آگ" نام کا ایک چینل بھی ہوا کرتا تھا اور اُس پر بار بار یہ کہا جاتا تھا کہ "آگ لگا دو" اور پھر یہ سُن کر ہم آگ لگا بھی لیا کرتے تھے۔۔ راوی کہتا ہے کہ وە کوئی نوجوانوں کا چینل قرار پایا تھا مگر ہمیں تو اُس چینل یعنی کہ آگ میں نوجوانوں کے لئے کوئی آگ نظر نہیں آئی۔۔ یا پھر شائید ہم نوجوانی کا سفر طے کر کے کہیں کسی دوسرے چوک پر پہنچ گئے تھے جو اُس آگ کو سمجھ نا پائے تھے۔۔ ارے نہیں بھئی اگلے چوک کا نام ڈی چوک بلکل بھی نہیں تھا ویسے بھی ڈی چوک جانے کے لئے آپ کا نوجوان ہونا بہت ضروری ہے اور ہم تو اب اگلے چوک پے پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیر ہمیں کیا نا تو ہم نوجوان ہیں اور نہ ہی ہمیں آگ سے کھیلنے کا کوئی شوق مگر ہمارے مُلک میں آگ سے کھیلنے کےشوقین کُچھ حضرات میں سے میرے محسنان اور کرم فرما جناب میر شکیل اُلرحمٰن اور اُن کے صاحبزادے جناب میر ابراہیم رحمان کو سرِفہرست سمجھا جاتا ہے۔۔ بہرحال اُن کی یہ عادت جہاں بہتوں کو ناگوار گُزرتی ہے وہیں اِس ملک کے کچھ بڑے لوگوں کو متاثر بھی کر گئی اور میر صاحبان کے دیکھا دیکھی کئی لوگوں نے میڈیا ہاٴوسز اور نیوز چینلز کھول کر طاقت کے نشے کو چار چاند لگانے کی ناکام کوشش کی۔۔ اُن ناکام لوگوں کی فہرست بہت لمبی ہے اور مختصر بھی ہوتی تو میں اُن کے نام یہاں نا لیتا کیونکہ نوکری تو مجھے بالآخر اِسی انڈسٹری اور انہی سیٹھوں کی کرنی ہے اور اتنے بڑے شیروں سے بیر لیکر پہلے ہی بہت بدنامی گلے پڑے ہوئی ہے جس سے جان چھڑانا اب ممکن نظر نہیں آتا مگر آپ پریشان نہ ہوں بس اشارتاً اتنا سمجھ لیجئیے کہ پاکستان میں چلنے والے آدھے سے زیادە نیوز چینلز جو اب تک نمبر ون پر نہیں پہنچ سکے ہیں میر صاحبان کی دیکھا دیکھی اس کارِخیر کی طرف راغب ہوئے تھے مگر مُنہ کی کھا کے اور مُنہ چھپا کہ بس اِدھر اُدھر ہو گئے تھے۔۔ 

پچھلے چند ماە میں وقت اور حالات کی نزاکت کا فائدە اُٹھا کر موقع پرستی کی معراج چھُوتے تقریباً ان تمام نیوز چینلز نے ہی نمبر ون بننے کا نا صرف خواب دیکھا بلکہ اُس کی تکمیل کیلئیے لگے سرپٹ دوڑنے اور کئی سالوں سے نمبر ون رہنے والے نیوز چینل کے بند ہونے کا بھی بھرپور فائدە نہیں اُٹھا سکے اور اب اُس چینل کی دوبارە بحالی پر مُنہ کے بل زور سے گرے اور واپس دو نمبر چینل بن کر رە گئے۔۔ خیر میڈیا کےاس سحر میں کئی برس سے گرفتار آئی ٹی کی ایک بہت بڑی یا شائید سب سے بڑی کمپنی کے مالک نے بھی اِس کھیل کا حصہ بننے کی نیت فرمائی یا شائید کسی نے اُن کی یہ نیت کروادی اور لگے ہیں صاحب پاکستان یا پھر بقول اُن کے دنیا کے سب بڑے میڈیا ہاٴوس کی بنیاد رکھنے۔۔۔ اِس کارِخیر کیلئے اُنہوں پاکستان کے سب سے زیادە تجربہ کار اور سینئر ٹی وی اینکر جناب کامران خان صاحب کا انتخاب فرمایا بلکہ کُچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ شائید خان صاحب نے اِس نیک کام کےلئے اُن کا انتخاب کیا ہے۔۔ جب سےاِس نئے چینل کی آمد کی خبر پھیلی ہے پاکستانی میڈیا کی دنیا میں خوشی کا ایک سماٴ سا ہے ہر کوئی اپنے جزبات کو ایکسپریس کرنے کیلئے اب تک بےچین ہے دیکھئے کس کا وقت کس دن آتا ہے اور کون میڈیا کے اس نئے ڈان کی ٹیم کا حصہ کب بنتا ہے۔۔ 

خیر جسے جس کا حصہ بننا ہے بنے مگر جیو نیوز کے رہتے کم از کم ہمیں تو کوئی دوسرا نیوز چینل نمبر ون بنتا دکھائی نہیں دیتا اور اُس کی بہت سی وجوہات ہیں۔۔ سب سے پہلے تو ہمارے تمام ہی دوست یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ نئے آنے والے چینل کے پاس سرمائے کی کوئی کمی نہیں ہے تو بھائی اِس بات کا سیدھا سا جواب یہ ہےکہ اگر صرف سرمایہ ہونا ہی نمبر ون نیوز چینل ہونے کی واحد وجہ ہوتی تو اب سے پہلے آنے والےسب چینلز فلاپ کیوں ہوتے؟؟؟ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ تو نا اے آر وائی کے پاس کبھی کم تھا نا ایکسپریس نیوز والے اب تک دیوالیہ ہوئے اور نہ ہی دنیا نیوز کے مالک میاں صاحب اب تک کنگال ہوئے تو پھر اِن میں کسی کا بھی نیوز چینل آج تک نمبر ون کیوں نہیں ہو سکا؟؟؟ دوسری بات جس سے تقریباً تمام ہی دوست جو اب تک شعیب شیخ صاحب سے شرفِ ملاقات حاصل  کر چکے ہیں مرعوب دکھائی دئیے وە ہے اُن کا وژن اور زہانت۔۔ تو جناب شیخ صاحب کی زہانت پر تو کوئی بیوقوف ہی شک کر سکتا ہے کیونکہ اُن کی آئی ٹی کمپنی اُن کی زہانت کا چلتا پھرتا ایک شاہکار ہے۔۔ جتنے کم عرصے میں اُنہوں نے اتنا کامیاب بزنس ایمپائیر کھڑا کیا اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے مگر ایک کامیاب آئی ٹی کمپنی بنانا اور چلانا نمبر ون نیوز چینل بنانے اور چلانے سے بلکل مختلف بات ہے اور شائید یہی وجہ ہے کہ ایک سال سے زائید کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک باتوں کے علاوە کُچھ اور بنتا دکھائی نہیں دے رہا۔۔ ایک اوراہم بات یہ ہے کہ مارکیٹ سے کمپیٹیشن ختم کر کے ایک کامیاب آئی ٹی کمپنی تو شائید بنائی جا سکتی ہے مگر میڈیا کی سائنس زرا الگ سی دیکھی اور سیکھی ہےہم نے تو اگر کاروباری سوچ کے ساتھ ایک ٹی وی چینل بنانا اور چلانا مقصود ہے تو طریقہِ کار پر نظر ثانی بہت ضروری ہے ہاں اگر چینل لانے کے پیچھے کچھ اور مقاصد و عوامل جیسا کہ پاکستان کے نمبر ایک چینل کو جڑ سےاکھاڑ کر پھینکنا یا پوری انڈسٹری میں کسی بھی قیمت پر اپنی مونوپولی قائم کرنا وغیرە کار فرما ہیں تو پھر سترە کیا سترە سو چہرے (ٹی وی اینکرز) بھی کم پڑیں گے۔۔

جب بات کاروبار کی آہی گئی ہے تو آپ ہی زرا اپنی عقل استعمال کر کے اتنا بتائیے کہ جب آپ ایک چھ لاکھ روپے پر کام کرنے والے اینکر کو پچاس لاکھ روپے پر اور چار لاکھ والے کو تیس لاکھ  روپے ماہانہ پر ملازمت دیں گے اور ایک لاکھ روپے میہنے والے پروڈیوسر کو تین لاکھ روپے ماہانہ صرف تنخواە کی مد میں دیں گے تو آپ ایک نئے آنے والے چینل کے اخراجات کو شائید پوری انڈسٹری کے ریوینیو سے بھی اوپر لے جائیں گے۔۔ ویسے تو کوئی بھی باشعور بزنس مین اس بنیادی جمع تفریق کے بعد ہی یہاں تک پہنچتا ہے مگر پوری انڈسٹری کے ریوینیو سے زیادە یا اُس کے برابر کے اخراجات رکھنے کی کوئی تو سائنس ہو گی جو مجھ غریب کی عقل سےکافی بالاتر ہے۔۔ چلئے تھوڑی دیر کیلئے فرض کر لیتےہیں کہ بول کا بزنس پلان ایک دم درست ہے اور آج نہیں بلکہ آنےوالے پانچ سالوں تک یہ میڈیا ہاٴوس بِنا منافع کے بھی چلتا رہے گا مگر جب آپ ایک ساتھ پاکستان کےسترە سینئیر ترین اینکر حضرات کو جن میں سے بیشتر اپنے موجودە ٹی وی چینلز پر پورے ہفتے میں کم سےکم تین اور زیادە سے زیادە پانچ دن ایک گھنٹہ ہر روز آن ائیر ہوتے ہوں اُن سب کو ایک نیوز چینل پر کس طرح فِٹ کیا جائے گا؟؟ کیا دن کے گھنٹے چوبیس سے بڑھا کر اڑتالیس کروالئیے جائیں گے یا پھر چینلز کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو یا تین کر دی جائیگی؟؟؟ پہلی صورتِ حال تو قدرے ناممکن ہے ہاں مگر اگر دوسرے آپشن پر غور کیا جائے تو کسی حد تک کامیابی ملنے کا امکان ہے ہاں مگر اخراجات کے دو سے تین گُنا ہونے کے امکانات بہت روشن ہیں۔۔ بہر حال ابھی تو تیل دیکھئے اور تیل کی دھار پھر دیکھئیے کہ کِس کِس کے پلان تیل ہوتے ہیں اور کون کون خود تیل ہوتا ہے۔۔

مگر آپ جو بھی کہئیے سوچئے یا سمجھئیے میر شکیلُ  الحمٰن کے ساتھ کام کرنے کا جو تھوڑا بہت میرا زاتی تجربہ ہے ایک تو مجھے وە ہار مانتے نظر نہیں آتے دوسرا اُن کے وژن اور سوچ تک پہنچنا اُن کے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے "میڈیا آئیکونز" کے بس کا روگ نہیں لگتا۔۔ میں تو ہمیشہ سے ہی یہ کہتا چلا آرہا ہوں کہ اگر کسی کو واقعی جیو نیوز اور جنگ گروپ کے دروازوں پر تالے ڈلوانے ہیں تو میر شکیل صاحب کے ملازموں کو ملازمت پر رکھنے سے بہتر ہے کہ خود میر صاحب کو ایک آفر لیٹر بھیجوا دیا جائے ایسا کرنے سے نا صرف آپ کا پیسہ اور وقت ضائع ہونے سےبچے گا بلکہ آپ کو اپنے مقصد کے حصول کے لئے زیادە دماغ بھی کھپانا نہیں پڑے گا۔۔ رہی بات جیو کی تو نا جانے مجھےایسا کیوں لگتا ہے کہ اُس کے ہارنے کا وقت ابھی بھی تھوڑا دُور ہے باقی میر شکیلُ الحمٰن  صاحب المعروف ایم ایس آر کے دماغ کا کوئی بھروسہ نہیں وە کبھی بھی کوئی بھی "نئی بات" کر سکتےہیں۔۔۔

میں نے جو بولنا تھا بول دیا آگے آپ لوگ خود سمجھدار ہیں !!


AK
Sent from my iPad
Twitter: @Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com

Thursday, March 13, 2014

آفریدی، آفریدی ہوتا ہے۔۔۔

آفریدی، آفریدی ہوتا ہے۔۔۔

کہتے ہیں اپنا قد بڑا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بونوں کے بیچ کھڑے ہو جاو خودبخود بڑے لگنے لگو گے اور جب بہت بڑا بننا چاہو تو اپنے سے بڑے سے پنگا لے لو۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کون کہتے ہیں؟؟؟ تو صاحب ایسا کہنے کی ہمت اب مجھ جیسے بیوقوف اور کم عقل کے سوا اور کر بھی کون سکتا ہے۔۔۔

بس اسی ارادے سے آج کے دن کی شروعات کی ہے اور سوچا کیوں نا آج اپنے سے زیادە بڑے، طاقتور، قابل، پڑھے لکھے اور فرفر انگریزی بولنے، لکھنے اور سمجھنے والوں سے پنگا لیا جائے۔۔ شائید اسی بہانے لوگ مجھ غریب فقیر اردو لکھنے بولنے سننے سمجھنے والے کو بھی جان لیں اور شائید مجھ غریب کا قد بھی اتنا بڑا نہ سہی کوئی دو چار انچ ہی بڑھ جائے۔۔  

تو صاحب عنوان پے واپس آتے ہیں پچھلے دنوں دانتوں گیند چبانے والے ہمارے ایک کرکٹر بھائی نے ڈھاکا کے شیرِبنگلا اسٹیڈیم میں اُس وقت اچانک اُدھم مچانا شروع کر دیا جب پاکستانی قوم بھارت کے خلاف میچ تو نہیں مگر ہمت تقریباً ہار ہی چکی تھی اور مجھ سمیت سب ہی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ اب سوشل میڈیا خاص طور فیس بک اور ٹوئیٹر پر اب اپنے بھارتی دوستوں سے جو عزت ہمیں ملنے والی ہے اُس سے کیسے بچا جائےگا۔۔۔ مگر صاحب وہی آفریدی جس کے بارے میں چھنوں کی آنکھ کے نشے میں دھت ایک تازە ترین انڈین فلمسٹار اپنے ٹوٹل سیاپے میں یہ کہتے پائے گئے تھے کہ "یار آفریدی سے تو ہم بھی پریشان ہیں" جی اُسی آفریدی نے بس کھیل کے آخری کچھ اووروں میں پورے ہندوستان کو ایسے سیاپے میں ڈال دیا کہ جب"پچاس پچاس کوس دور گاوٴں میں بچہ رات کو روتا ہے تو ماں کہتی ہے کہ بیٹے سو جا، سو جا نہیں تو آفریدی بیٹنگ کرنے آجائے گا"۔۔ تو جناب دنیا میں سب سےزیادە چھکے لگانے والے اُسی آفریدی نے ناصرف اُس روز بھارت کے چھکے چھڑائے بلکہ اگلے میچ میں ہی اپنے بنگالی بھائیوں کے خوب طوطے بھی اُڑائے۔۔ آپ کا تو مجھے نہیں معلوم مگر آفریدی نے ملک کے اس ٹینشن زدە ماحول میں جیت کی خوشی میں بھنگڑے ڈالنے کا جو موقع دیا وە شائید اُن خاتون کے آسکر جیتنے والے دن بھی ہمیں نصیب نہ ہوا۔۔ اِس بات سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اُن خاتون نے آسکر جیت کر کوئی تیر نہیں مارا تھا، مطلب صرف یہ ہے کہ کرکٹ سے جو جزباتی لگاو ہمیں ہے وە شائید کسی فلم سے ہمیں کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔۔ 

آپ تو جانتے ہی ہیں کرکٹ اور نمی (ڈیو) کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس نمی سے کبھی ہاتھوں سے گیند پھِسل جاتی ہے تو کبھی کرکٹر کے منہ میں پڑی بیچاری زبان۔۔ سنا ہے پچھلے دنوں ہمارے آفریدی کی زبان کہیں پھِسل گئی اور اُس کیوٹ ترین آدمی کو کچھ لوگوں کی نظر میں گبر بنا گئی۔۔ وہی آفریدی کہ جس کے قصیدے پچھلے ہی ہفتے تک شدید سُپر ہِٹ چل رہے تھے اب اُسی آفریدی پر انگریزی زبان میں بلاگ لکھ کر زیادە سے زیادە ہِٹس اور ریٹوئیٹ حاصل کرنے کی کوشش میں دن رات ایک کئے جا رہے ہیں۔۔ اسپورٹس کے ایک سینئیر صحافی سے جب میں نے اس بارے میں رائے مانگی تو اُنھوں نے فرمایا کہ "اعتراض اُس بات پر نہیں اُٹھایا جا رہا جو کہی گئی ہمارے یہاں کم و بیش ہر باپ ایسے ہی سوچتا ہے اعتراض لوگوں کو صرف آفریدی کے یہ بات کرنے پر ہے" جس پر میں نے اُن حضرت یہ پوچھا کہ کیا آپ جانتےہیں کہ آج بھی کراچی جیسے شہر میں ایسے کتنے بیٹے موجود ہیں جو اپنے باپ کی مرضی کے بغیر نویں جماعت میں سائنس اور آرٹس تک منتخب نہیں کرسکتے تو کیا میں اِس ملک کے سب بیٹوں کی ایک "بیٹا قومی موومنٹ" شروع کر دوں؟؟؟ کیا ہمیں اُن تمام بیٹوں کے باپوں کے خلاف ایک لانگ مارچ شروع کر دینی چاہئے؟؟؟ یا پھر کوئی باپ بدلو تحریک؟؟؟ 

کہنے کا مطلب صرف اور صرف اتنا ہے آفریدی ایک کرکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا باپ بھی ہے جس کی چار بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹی کا باپ ہونے کے ناطے میں ایک بات تو وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آفریدی کو بھی اپنی بیٹیوں پر اُتنا ہی فخر ہوگا جتنا مجھے یا کسی اور بیٹی کے باپ کو یا آفریدی کے بارے میں بلاگ لکھنے والی بیٹی کے باپ کو اپنی بیٹی پر ہوگا۔۔ اور مجھے تو شائید اپنے بیٹے سے زیادە بلکہ کہیں زیادە اُمیدیں اپنی بیٹی سے ہیں مگر اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں اپنی بیٹی کے ہاتھ کے پکے مزیدار کھانےنہیں کھانا چاہتا۔۔  پاکستان کی جن کامیاب ترین خواتین کا زکر آفریدی کے بارے میں لکھے گئے بلاگ میں کیا گیا ہے وە سب کامیابیوں کے باوجود بھی پہلے اپنے باپ کی بیٹیاں ہیں پھر کچھ اور، بلکل اُسی طرح جیسے آفریدی اور میں پہلے اپنی بیٹیوں کے باپ اور اُس کے بعد کچھ اور۔۔ 

ہمیں کسی کے بھی بارے میں ججمنٹل ہوکر بلاگ لکھنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہئیے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اُس کے اثرات ہماری زندگیوں میں ضرور نظر آئیں گے۔۔ اِس معاشرے میں اِسٹیو جابز نہیں بلکہ فلحال ملک ریاض ہی پیدا ہوں گے اور اِس ملک کے صدر اوباما صاحب نہیں بلکہ ممنون صاحب ہی ہوں گے اور شُکر کیجیۓ آپ اِس معاشرے کی ایک بیٹی ہیں کیونکہ اِس معاشرے میں شائید بیٹی ہونا آسان مگر ایک بیٹی کا باپ ہونا بہت ہی مشکل ہے اور آپ کو اِس مشکل کا اندازە شائید کبھی بھی نہ 
ہو کیونکہ آپ ایک بیٹی تو بن سکتی ہیں ایک بیٹی کا باپ کبھی بھی نہیں۔۔ 


AK
Sent from my iPad
Twitter: @Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com

Wednesday, January 29, 2014

بنام عزت معاب وزیرِاعظم اِسلامی جمہوریہِ پاکستان جناب محترم میاں محمد نواز شریف صاحب

کھُلا ڈُلا خط

بنام عزت معاب وزیرِاعظم اِسلامی جمہوریہِ پاکستان
جناب محترم میاں محمد نواز شریف صاحب 

السلام وعلیکُم!

ہم یہاں خیرئیت سے ہیں اور آپ کی خیرئیت بھی خداوندِکریم کی زات سے نیک مطلوب ہے۔۔۔ حضور ہم اور ہمارے آگے پیچھے پھرنے والے قریباً سب ہی احباب آپ کی صحت اور لمبی عمر کے لئے ہمیشہ ہی دعاگو رہا کرتے تھے مگر اِس بار جب سے آپ اِسلام آباد مُنتقل ہوئے ہیں آپ کے حُسن پہ تو جیسے چار چاند ہی لگ گئے ہیں اور وە چار چاند کوئی اور نہیں آپ کے بہت ہی قریبی جناب چوہدری داخلہ صاحب، اپنے جنابِ عابد شیر بجلی صاحب، جناب رانا قانونِ پنجاب صاحب اور ہم سب کے جانے مانے صحافی ٹائیپ مُنشی جنابِ عرفان انکل سرگم شامل ہیں۔۔۔ 

خیر حضور قصہ مختصر یہ کہ کئی مہینوں کے بعد آج جب آپ نے قومی اِسمبلی کو عزت بخشی تو میں اور مجھ جیسے کئی احباب آپ کے مُمکنہ خطاب اور اُس کے بعد پیدا ہونے والی مُمکنہ صورتِ حال سے نہ صرف خوفزدە تھے بلکہ ہم نے تو راەِ فرار کا مُکمل ارادە بھی کر لیا تھا۔۔۔ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ شائید آپ انتخابات سے قبل کئے گئے اپنے وعدے یا تو بھُول گئے ہیں یا پھر ہمارے حقیقی خیر خواە وە تمام ہی اصحاب جن کا زکر ہم نے اوپر والے پیراگراف میں کیا ہے آپ نے اُن کی بات سننا اور اُن کے مشوروں پے کان دھرنا بند کر دئیے ہیں۔۔۔ 

مگر آپ کی آج کی تقریر کے بعد ہمارا یہ گُمان شدید یقین میں تبدیل ہو گیا ہے کہ حضور کو اِس مُلک کے ١٨ کروڑ عوام، فوجیوں، پولیس اہلکاروں، پولیو رضاکاروں اور اقلیتوں کا خیال ہو نہ ہو مگر حضور کا دل ہماری محبت سے سرشار اور ہمارے مسائل سے کبھی غافل نہیں ہو سکتے۔۔۔ آپ کے آج کے خطاب سے یہ بھی طے ہو گیا کہ کم از کم ہمارے جیسے سب ہی احباب کے لئے یہ ملک اور اِس سر زمین سے زیادە محفوظ اور کوئی مقام ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ اب سوال صرف اور صرف یہ باقی رە جاتا ہے کہ یہ جو مزاکراتی بِگُل آپ نے آج بجایا ہے اِس کا اطلاق صرف اور صرف طالبانی طرز کے قاتلوں اور جرائم پیشہ حضرات پر ہوتا ہے یا مجھ جیسے ناچیز بھی اِس عمل سے کچھ فائیدەاُٹھا سکتے ہیں جو کراچی جیسے شہر کے معصوم عوام اور تاجروں کا جینا حرام کئیے ہوئے ہیں؟؟؟ 

ویسے آپس کی بات ہے حضور جب آپ نے کراچی میں آپریشن شروع کیا تھا اور دنیا کی تاریخ کے سب سے قدیم ترین وزیرِاعلی جناب ہمیشہ سے قائم علی شاە صاحب کو اُس آپریشن ٹائیپ کسی چیز کا کپتان مُقرر کیا تھا ہم تو تب سے ہی اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادە محفوظ محسوس کرنا شروع ہو گئے تھے کیونکہ ایک بات جو روزِاول سے طے تھی کہ یہ آپریشن "ٹاگیٹیڈ" ہو گا تو ہم تب سے ہی مطمئن تھے کے ٹارگیٹ کِلر بھی کبھی ٹارگیٹ بنا ہے اور پھر جِن لوگوں کو اِس آپریشن کے زریعے ٹارگیٹ بنایا جانا تھا وە تو پہلےہی سے ہمارے جیسے لوگوں کے ٹارگیٹ پر تھے تو اِس طرح تو ہم پہلے سے ہی وە کام کر رہے تو جِس کے لئے اتنی دھوم دھام سے سرکار تیاری کر رہی تھی یعنی کے کراچی کے معصوم عوام کو نشانہ بنانا تو اِس طرح تو ہم بھی سرکار کے اِتحادی ہوئے نہ حضور وە آپ کیا کہتے ہیں "اِسٹیک ہولڈر"۔۔۔ 

حضور آپ کی آج کی حوصلہ افزا تقریر اور مولانا عمران الرحمان  کے جوابی خطبات سننے کے بعد اب آپ سے بس یہی درخواست ہے کے اپنی مزاکراتی ٹیم کو حکم صادر فرمائیے کہ جلد از جلد کراچی کا ایک دورە فرمائیں ہم سے اور ہمارے جیسے اصحاب سے بس ایک ملاقات کرلیں اور ہماری تمام ہی شرائط بِنا کسی حُجت کے مان جائیں اور پھر ہمارے مزاکرات طالبانی طرز کے حضرات سے بھی لگے ہاتھوں کرواڈالیں تاکہ ہم تمام ہی افراد مِل جُل کر اِس ملک اور اِس میں رہنے والے عوام کی ایسی تیسی کر سکیں اور آپ اور آپ کے اہلِخانہ سکون سے یوں ہی اگلے پانچ سال حُکمرانی کرتے رہیں۔۔۔ 

حضور بڑی ہمت کر کے آپ کو یہ رُقعہ تحریر کیا ہے کیونکہ ایک بات تو طے ہے کہ آپ سے بہتر ہمارے دُکھ اور درد کو سمجھنے والا اور یہاں کون ہے۔۔۔   

فقط والسلام 
آپ کا شدید اپنا
نامعلوم 






AK
Sent from my iPad

Sunday, January 12, 2014

قصہ کچھ ملاقاتوں کا ۔۔۔ قسط نمبر٢ ... لانڈھی کا ایک کونا۔۔۔

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔

قسط نمبر ٢
لانڈھی کا ایک کونا۔۔۔

جیسا کے میں نے چاۓ بسکُٹ شروع کرنے سے پہلے ہی بتایا تھا کہ اِس سیریز کے تمام ہی بلاگ میرے بچپن کی کچھ ناخلف حرکات و سکنات کے بیچ پیش آئےکچھ معقول واقعات کےاردگرد ہی آوارە گردی کرتے پائے جائیں گے ہاں مگریہ الگ بات ہے کہ بچپن یا لڑکپن کی یادیں اب کچھ قدیم سی محسوس ہونے لگی ہیں۔۔۔ نہیں نہیں حضرت قائم علی شاە جتنی قدیم تو بلکل بھی نہیں۔۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اچھے خاصے حضرات اور شائید کئی خواتین بھی میرے ہر بلاگ میں جناب شاە صاحب کے زکر پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہوں گےاور  کچھ تو شائید مجھے ایسے القابات سے بھی یاد کر رہے ہوں گے جن میں یا تو گھریلو قسم کی خواتین کا زکر ہوگا یا پھر کچھ جسمانی اعضاٴ کا۔۔۔ خیر صاحب مجھے کیا مجھے تو بس مطلب ہے تو اپنے بلاگ پیج پر پڑنے والے کِلکِس سے۔۔۔ جی جی بلکل مایا خان ٹائیپ چھاپا آننٹئیوں کی طرح۔۔۔ ریٹنگ کے لئے سالا کچھ بھی کرے گا ٹائیپ 

بہرحال اِس سب تاویل کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ تمام ہی بلاگز کم عمری کی کچھ ٹوٹی پھوٹی یادوں کو جوڑ کر آپ تک پہنچائے جا رہے ہیں۔۔۔ تو صاحب میں بچپن سے ہی اپنا ابا کے کچھ زیادە قریب رہا ہوں اور ابا کو بھی شائید مجھے وقت سے پہلے بڑا کرنے کی جلدی تھی۔۔۔ اِس کی میرے نزدیک تو بس دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ شائید وە جانتے تھے کہ اُن کے بیٹے کو ہر کام وقت اور عمر سے پہلے کرنے کا شوق ہے یا پھر وە میری تربیت شروع سے ہی اِس انداز سے کرنا چاہتے تھے کہ کچے زہن میں جو کچھ ڈالا جائے وە شائید زندگی بھر آپ کے ساتھ رہتا ہے۔۔۔ خیر صاحب وجہ کوئی بھی اِس کا فائیدە صرف اور صرف مجھے ہی ہوا ہے۔۔۔ تو بس ایک دِن ابا کہیں جارہے تھے اور اُنہوں نے والدە صاحبہ کو مجھے بھی تیار کرنے کا کہا بس مجھے کیا تھا فٹافٹ تیار ہوا اور ہو لیا ابا کے ساتھ۔۔۔ کچھ اچھی طرح یاد نہیں کہ ابا اور میں بس پر سوار ہوئے یا ابا کے کسی دوست کی موٹرسائیکل پے بیٹھے (اُن دنوں ابا کے پاس اپنی کوئی سواری نا تھی اور ہم عام طور سے بس یا ٹیکسی میں سفر کیا کرتے تھے) تو چل پڑی سواری کراچی کے ایک مضافاتی علاقے اسٹیل ٹاوٴن سے۔۔۔ شام شائید ڈھل رہی تھی کوئی آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم لانڈھی کی ایک چھوٹی سی گلی میں جا پہنچے جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا ایک شامیانہ لگا ہوا تھا اور کُل ملا کے دس سے بارە افراد کچھ ڈرے سہمے سے کھڑے تھے۔۔۔ یہ تمام ماحول دیکھ کر ہمارے دماغ میں بہت سے سوال ابھرے جیسے کے جب شامیانہ لگا ہوا ہے تو کھانے کی دیگوں سے اُٹھتا ہوا دھواں اور کھانوں کی خوشبو کیوں نہیں ہے، شامیانے کے آس پاس یا اندر سے گانے بجانے اور ڈھول ڈھمکے کی آوازیں کیوں نہیں آرہی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ زرق برق جوڑوں والی جھلملاتی آنٹئیاں، خالایں اور باجیاں کہاں ہیں۔۔۔ بحر حال اُن سہمے ہوئے لوگوں کی ایک عجب حرکت یہ بھی تھی کے وە وہاں سے گزرنے والے ہر ایک شخص کو بہت مشکوک انداز سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ وە الگ بات ہے کے وہاں کھڑے لوگوں کے چہروں پرطاری خوف کی وجہ ہمیں اب جا کر سمجھ آئی ہے تو آپ کو بھی بتا دیتے ہیں کہ  اُس خوف کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ شاە فیصل مسجد اسلام آباد میں مدفون ایک صاحب کا اُس وقت کے سیاسی لوگوں سے بے پناە پیار تھا جو اُس وقت صدرِمملکت تھے۔۔۔ خیر صاحب کچھ ہی دیر میں کچھ اور لوگ وہاں پہنچے اور شامیانے میں بچھی فرشی نشستوں پر براجمان ہو گئے۔۔۔ اب وہاں موجود افراد کی تعداد کُل ملا کے بھی ٢٠ سے زیادە نہ تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سفید کرتا پاجامہ اور کالی ویسٹ کوٹ میں ملبوس الطاف بھائی بڑی ہی شان سے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ شامیانے میں داخل ہوئے خوداعتمادی کا عالم یہ تھا کہ جیسے شامیانے میں ١۵سے٢٠ نہیں بلکہ شائید پندرە بیس ہزار افراد کا کوئی مجمع اُن کا منتظر ہو۔۔۔ میں اُس عمر میں بھی میں اُن کی شخصیت کے اِس پہلو سے متاثرہوئے بِنا نہیں رە سکا۔۔۔ جہاں تک میری یادادشت کام کرتی ہے بغیر کسی تاخیر کے تقریب جسے لوگ "تربیتی نشست" کہہ رہے تھے کا آغاز کر دیا گیا۔۔۔ الطاف بھائی سے ہوئی پہلی ملاقات سے اِس تربیتی نشست کے وقفہ میں جو شائید کچھ ہفتوں پر محیط تھا گھر میں ابا کی الطاف بھائی سے متعلق کچھ نہ کچھ باتیں سننے کا اتفاق ہوا تو میں نے اپنے آپ ہی اُنہیں آئیڈیلائیز کرنا شروع کردیا تھا۔۔ 

قصہ مختصر یہ کہ الطاف بھائی کچھ آٹھ دس چوکیوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے اسٹیج پر تشریف فرما تھے یہ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کے اُن سے پہلے کسی نے اُس نشست سے خطاب کیا یا نہیں مگر مجھے جیسے جناب الطاف حسین کی اُس روز کی ہوئی تقریباً پوری ہی تقریر یاد ہے اور اُس کی وجہ کچھ اور نہیں صرف مقرر کی موضوع پر گرفت اور اندازِخطابت تھا۔۔۔ الطاف بھائی نے اپنے خطاب کی ابتدا "اعوذوبالله مِن اشیطان الرجیم" اور "بسم الله الرحمن الرحيم" کے ترجمے اور تشریح سے کی اور پھر سورەِ فاتحہ کی تلاوت اور لفظ بلفظ ترجمے کے ساتھ ساتھ تشریح بیان کرتے گئے اور پوری تربیتی نشست کا موضوع جیسے سورەِ فاتحہ اورالله تعالی کی طرف سے اتارے گئے اِس سورۃ کے ایک ایک لفظ کے گِرد جیسے گھومنے لگا۔۔۔ میں نے پہلی بار کسی مقرر کو موضوع پے اتنی مظبوط گرفت کے ساتھ گفتگو کرتے سُنا تھا۔۔۔ گو کے میری عمر اُس وقت کچھ زیادە نہیں تھی مگر یہ بات طے ہے کے میں آج تک وە تقریر اور تقریب بھلا نہ سکا ہوں۔۔۔ شائید وە تقریر میری اب تک کی سنی ہوئی بہترین تقاریر میں سے ایک ہے یا شائید سب سے بہترین۔۔۔ 

خطاب کے اختیتام پر جس کا دورانیہ کم و بیش پونے گھنٹے کا رہا ہو گا ساتھیوں کے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور الطاف بھائی نے تقریباً تمام ہی ساتھیوں کو تسلی سے جوابات دے کر مطمئن کیا۔۔ اِس سوال جواب سیشن میں ایک ساتھی کی جانب سےایک ایسا سوال اُٹھایا گیا کہ جس پرملنے والے جواب نے کم از کم مجھے آج اُٹھنے والے ایک سوال کا جواب دو، ڈھائی دہائیوں پہلےہی دے دیا تھا۔۔۔ سوال تو پورا مجھے یاد نہیں مگر سوال کے متن میں کہیں ایم کیو ایم کو ایک سیاسی جماعت کہا گیا تھا جس پر الطاف بھائی نے اُن ساتھی کی فوری تصحیح کی کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔۔۔ اُن کا کہنا تھا کے سیاسی جماعتیں سیاست کرتی ہیں اور تحاریک میں حرکت اور جدوجہد ہوتی ہے جو نہ کبھی رکتی ہے اور نہ ہی کبھی ختم ہوتی ہے کیونکہ اگر تحاریک متحرک نہ رہیں تو وە تاریخ کا حصہ بن جایا کرتی ہیں۔۔۔

بات بہت جامع اور مکمل تھی مجھےتو آج تک یاد ہے اور شائید یہی وجہ ہے کہ لانڈھی کے ایک کونے میں تربیتی نشست کا اِنقعاد کرنے والی اُس تحریک کو آج پاکستان کے ہر کونے میں جانا اور مانا جاتا ہے۔۔۔ 


اگر آپ کو آج کی قسط پسند آئی ہے تواگلی قسط کے لئےیوں ہی اپنی کمپیوٹر اسکرین سے جُڑے رہئیے اور اگر پسند نہیں بھی آئی تب بھی جڑے ہی رہئیےشائید اگلی والی پسند آجائے۔۔۔



AK
The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com


Saturday, January 11, 2014

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔ 
قسط نمبر ١ 
چاۓ بسکُٹ

بات چونکہ خاصی پرانی ہے مگر اتنی بھی نہیں جتنے اپنے وزیرِاعلی سندھ جناب شاە صاحب اور اُن جتنی پرانی ہو بھی کیسے سکتی ہے اُن کے زمانے کی تو باتوں کی بھی بس یوں سمجھئے کے اب تو ایکسپائیری ڈیٹ گزر چکی ہے۔۔۔ 

خیر جناب تو بات ہے بس اب سے کچھ سال پہلے یعنی کے میرے بچپن یا شائید لڑکپن کے دنوں کی میری عمر کُل ملا کے بس کوئی ساڑھے آٹھ یا نو سال سے زیادە نہیں تھی۔۔۔ اب آپ سب تو جانتے ہی ہیں کے یہ عمر کھیلنے کی کم اور کودنے کی زیادە ہوتی ہے تو بس شائید کوئی جمعہ یا سنیچر کا دن تھا (اُس زمانے میں جمعہ کو ہمارے اسکول کی ہفتہ وار تعطیل ہوا کرتی تھی) تو بس جناب کھیل اور کود میں مصروف تھے کہ اچانک مخبری ہوئی کے ابا کے کچھ دوست گھر پر تشریف لا رہے ہیں۔۔۔ بس یہ خبر سن کے ایسی خوشی محسوس ہوئی جیسے آج کل کبھی کبھار سی این جی پمپ کھلا نظر آنے سے ہوتی ہے۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے ابا کے دوستوں کے آنے سے ہمیں کیا فائیدە تھا تو جناب جب گھر پر مہمان آیا کرتے تھے تو اُن کے لئے کیا جانے والا چاۓ پانی کا بندوبست اُن کے جانے کے فوری بعد ہم جیسے کمینے بچوں کے کام آیا کرتا تھا۔۔ 

خیر جناب ایک بات جو اُس روز کچھ الگ تھی وە یہ کے آج والدِمحترم کچھ غیر معمولی خوش نظر آرہے تھے اور ہم سے زیادە شدت سے وە خود اپنے دوستوں کا انتظار کر رہے تھے جس سے شروع میں تو ہمیں یہ گمان ہوا کہ شائید والدە صاحبہ نے اُن پہ بھی مہمانوں کے ساتھ چاۓ بسکُٹ کھانے پر پابندی عائید کر دی ہے۔۔۔ مگر جناب حقیقت تو کچھ اور ہی تھی اور اُس حقیقت کا احساس ہمیں تب ہوا جب وە حضرات تشریف لائے۔۔۔ تو صاحب کُل ملا کے کوئی آٹھ سے دس افراد ہمارے گھر تشریف لائے اُس زمانے میں ہم اسٹیل ٹاون کے ایک چھوٹے سے سرکاری کوارٹر میں رہا کرتے تھے۔۔۔ آنے والے مہمانوں میں تین چار حضرات ایسے تھے جن سے ہماری ملاقات پہلے سے تھی کیونکہ وە حضرات وہیں قریب میں رہائیش پزیر تھے اور اکثر ابا کے پاس آیا کرتے تھے مگر کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں ہم پہلی دفعہ اپنے گھر میں دیکھ رہے تھے۔۔ خیر جناب کیونکہ چھوٹا سا کوارٹر تھا اِس لئے ڈرائینگ روم کی پرائیویسی کا کچھ خاص ماحول نہ تھا۔۔۔ ابا اپنے دوستوں کو ڈرائینگ روم میں بیٹھا کر اندر آئے اور مجھے اور میرے بڑے بھائی صاحب کو اپنے ساتھ ڈرائینگ روم میں لے گئےجہاں تقریباً تمام ہی احباب سفید کرتا پاجامہ پہنے فرشی نشست پر براجمان تھے۔۔۔ والد صاحب کے حکم پر تمام ہی افراد سے باری باری سلام دعا کی جو حضرات ہمیں اور ہم اُن کو جانتے تھے اُن سے ملاقات کے بعد ابا نے اپنے کچھ نئے احباب کا تعرف کروایا۔۔۔ اُن تمام حضرات کے نام ہمیں باری باری بتائے گئے اور اُن کو ہمارے اور یوں یہ ہاتھ ملانے کا سیشن تمام ہوا تو ہم نے بھی ایک کونے میں اپنی معصوم سی تشریف ٹکانے کا ادارە کیا مگر اُس روز خلافِ توقع والد صاحب نہائیت ہی پیار سے ہمیں کمرے سے باہر جانے کا حکم دیا۔۔۔ ہمیں تو جیسے جھٹکے پہ جھٹکے لگنے کا دن تھا۔۔۔ لگنے والے اُن تمام جھٹکوں میں سےایک جھٹکا یہ بھی تھا کہ ابا اپنے سے عمر میں کم دکھنے والے ایک صاحب کو بار بار "الطاف بھائی الطاف بھائی" کہہ کر مخاطب کر رہے تھے اور اُن سے گفتگو کا انداز بھی شدید موٴدبانہ تھا۔۔ خیر صاحب ہمیں کیا تھا ہمیں تو مطلب تھا تو بس الطاف بھائی نامی صاحب کے جانے کے بعد ملنے والے کچھ بچے کُچے بسکُٹوں سے۔۔۔ 

خیر صاحب والد صاحب کے حکم کے مطابق ہم دونوں بھائی ڈرائینگ روم سے باہر آگئے۔۔ ابا بھی باہر آئے اور قران شریف لے کے واپس ڈرائینگ روم میں چلے گئے اور ڈرائینگ کا دروازە بند کر لیا۔۔۔ اور پھر ڈرائینگ روم کا دروازە ایک طویل دورانیہ کی اور قدرے سنجیدە ماحول کی ملاقات کے بعد کھلا۔۔۔ والد صاحب باہر تشریف لائے اور چائے بسکُٹ کی ٹرے لے کے دوبارە ڈرائینگ روم میں چلے گئے اور اِس بار نہ صرف دروازە کھلا چھوڑ دیا بلکہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے گئے اور یوں اِس ناچیز کو ساڑھے آٹھ۔نو سال کی عمر میں ہی جناب قائیدِ تحریک کے پہلو میں بیٹھ بغیر ابا کی ڈانٹ کے خوف سے خوب بسکُٹ کھانے کا موقع ملا۔۔۔ بہت ساری دوسری حیرت انگیز باتوں کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے ابا کے چہرے پر ایک خاص قسم کی خوشی اور اطمینان بھی دیکھی۔۔۔ نہائیت کچا زہن تھا اُس وقت تو کچھ سمجھ نہ آیا مگر بس اُس کے بعد الطاف بھائی سے ہوئی کچھ ہی ملاقاتوں میں میں اپنے ابا کی اُس خوشی اور اطمینان کا راز جان گیا تھا۔۔۔ بحرحال چائے کے بعد الطاف بھائی اور اُن کے ساتھ آئے ہوئے احباب نے اجازت لی تو ابا نے بس اسٹاپ تک انہیں خود چھوڑنے پر اصرار کیا تو  ہم بھی ابا کی انگلی پکڑ کے ساتھ ہو لئے۔۔ بس عصر اور مغرب کے بیچ کا ہی کوئی وقت تھا تمام ہی حضرات ٹہلتے ہوئے بس اسٹاپ تک آئے وہاں سے الطاف بھائی اور اُن کے رفقا جن میں شائید ڈاکٹر عمران فاروق شہید بھی شامل تھے کو ایک ٹیکسی میں سوار کرا کے روانہ کیا اور اپنے گھر کی طرف واپس چہل قدمی شروع کر دی۔۔۔

آج تک کے لئے اِتنا ہی کل دوبارە الطاف بھائی کے ساتھ ہوئی اپنی دوسری ملاقات کے احوال کے ساتھ آپ کی کمپیوٹر اسکرین پر حاضر ہوں گا۔۔۔ تب تک کے لئے الله حافظ۔۔۔

پاکستان ذندە باد




AK
The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com




Friday, January 10, 2014

ایک باپ، ایک بیٹا اور ایک ماں۔۔۔

ایک باپ، ایک بیٹا اور ایک ماں۔۔۔
نو جنوری میری زندگی کی کچھ اُن تاریخوں میں سے ایک تاریخ ہے جسے شائید میں اپنے مرنےوالے دن تک نہ بھول پاٴوں اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ بہت سادە ہےاور وە یہ کہ یہ میری تاریخِ پیدائیش ہے۔۔۔ میرا ایک دوست مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ انسان کی زندگی میں تین مواقع ایسے ہوتے ہیں جن مواقعوں کو ایک تو انسان کبھی بھول نہیں سکتا اور اُن مواقعوں پر انسان سب کی توجہ کا مرکز بھی ہوتا ایک اُس کی پیدائیش کا دن ایک اُس کی شادی کا دن اور ایک اُس کی موت کا دن۔۔۔ اُس وقت اُس دوست کی یہ بات بالکل درست محسوس ہوتی تھی کیونکہ اُس وقت مجھے پیدائیش کے علاوە کسی اور دوسرے موقع کا تجربہ ہی نہیں تھا۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک دن ایسا بھی آیا جب میں رشتہِ ازدواج میں منسلک ہوا اور اُس دن مجھے میرے دوست کے بتائے ہوئے تین میں سے دوسرے موقع کا تجربہ ہوا اور مجھے احساس ہوا کہ وە بالکل صحیح کہتا تھا۔۔۔ 

شادی کے ٹھیک ایک سال بعد جب میرے گھر میں بیٹے کی پیدائیش ہوئی تو مجھے اندازە ہوا کے یہ اِک ایسا موقعہ ہے جس کا زکر میرے دوست نے اپنے فلسفہٴِ زندگی میں نہیں کیا تھا مگر شائید میں کبھی بھی اِس دن اور اس دن پر ملنے والی خوشی کو نا بھلا سکوں۔۔۔ خیر جناب ہر سال کی طرح اِس سال بھی میری سالگرە کی تیاری میری بیگم صاحبہ اور میرے بیٹے نے کر رکھی تھی مگر چونکہ صاحبزادے کو صبح اسکول کے لئے جلدی سونا تھا تو حضرت آٹھ جنوری کی رات نو بجے ہی مجھے ہیپی برتھ ڈے بول کے سو گئے۔۔۔ اپنی اولاد سے ہیپی برتھڈے سننے کا بھی اپنا ہی لطف ہے صاحب۔۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ بیوی بچوں  کے سو جانے کے بعد میں اپنا کچھ کام کرنے بیٹھ گیا۔۔۔ الصبح کوئی پانچ چھ بجے کے قریب ٹیلیوژن پر بریکنگ نیوز دیکھی کہ تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد اپنے کراچی پولیس کے شیر جوان جناب چوہدری اسلم (شہید) کے ہتھے چڑھ گئے اور مزاحمت کرنے پر چوہدری صاحب کے ہاتھوں جہنم واصل ہو گئے۔۔ خبر دیکھ کے دل سے خوشی ہوئی۔۔ چوہدری صاحب مرحوم سے متعلق ایسی خبر جب بھی آتی تھی تو بس جیسے دل کو ایک سکون سا مل جایا کرتا تھا کہ آج کے اِس نفسہ نفسی کے دور میں بھی ہمارا کوئی اپنا ہمارے لئے اُن درندوں اور ہم عام لوگوں کے بیچ دیوار بنے کھڑا ہے۔۔ بس اِسی اطمینان کے ساتھ کل بھی نیند آگئی مجھے اور میں بس بے فکری کی نیند سو گیا۔۔۔ 

سارا دن سونے کے بعد جب قریباً ساڑھے پانچ بجے میری آنکھ کھلی تو اپنے موبائیل پر ایک ایس ایم ایس پایا جس میں حسن اسکوائر کے قریب ہوئے کسی دھماکے کا زکر تھا۔۔۔ بس اُسی وقت میرا بیٹا کمرے میں زور زور سے "ہیپی برتھ ڈے ٹویو بابا" گاتا ہوا داخل ہوا۔۔ کمرے کا دروازە کھلنے کی وجہ سے ٹیلیوژن پے چلنے والی کسی بریکنگ نیوز کو اپنے ناظرین تک پہنچانے والی ایک خاتون اینکر کی چیختی ہوئی آواز میرے کانوں تک پہنچی "اور اِس دھماکے کے نتیجے میں اُن کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں" میں تیزی سے کمرے سے باہر آیا تو مجھ پر تو جیسے قیامت ہی گزر گئی اُس ایک لمحے میں بس ایسا لگا کہ جیسے کوئی بہت اپنا کہیں دور چلا گیا ہو بہت دور۔۔۔ دماغ جیسے ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ صبح جس شخص کے کئے ایک کام کی وجہ سے میں سکون کی نیند سویا تھا اُس نیند کے ٹوٹتے ہی یہ احساس بھی ہمیشہ کے لئے دم توڑ دے گا کہ "کہیں کوئی اپنا ہے"۔۔۔ 

بریکنگ نیوز، تجزیعے اور تبصرے جاری تھے اور میں نہ جانے کیوں عجب اضطراب کی سی کیفیت میں تھا اور پھر محترمہ نورین اسلم صاحبہ کا آڈیو بیپر میری سماعت سے گزرا اور اُن کے ہمت و حوصلے نے مجھے حیران کردیا۔۔۔ وە واقعی ایک با ہمت اور حوصلہ مند خاتون ہیں ان کے ہی توسط سے پتہ چلا کے چوہدری صاحب تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے مشفق باپ بھی تھے اور ایک باپ ہونے کے ناطے میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کے اولاد کی تنہائی اور لاوارثی کا تصور بھی جیسے روح کو جھنجھوڑ سا دیتا ہے مگر بقول نورین صاحبہ کے چوہدری صاحب اس حقیقت سے خوب واقف تھے اُن کے ساتھ یہ سب ہو سکتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وە اِن سفاک درندوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں اپنے بچوں کا خیال کئے بغیر میرے اور آپ کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لئے اپنی آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہے۔۔۔ ایک ایسا باپ اب ہم میں نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم میں سے بُہتوں کے بچے آج یتیم نہیں ہیں۔۔۔ 

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ بس دو روز قبل ہی صوبہ خیبر پختونخواە کے ضلع ہنگو میں ایک چودە سالا بچےاعتزاز بنگش نے اپنی جان دے کر ایک خودکش حملہ ناکام بنا ڈالا۔۔ جی ہاں اِس ملک کی ایک ماں نے ایسا بیٹا بھی پیدا کیا ہے جس نے اپنی جان دے کے اپنے اسکول میں پڑھنے والے سینکڑوں بیٹوں اور بیٹیوں  کی ماٴوں کی گودیں اُجڑنے سے بچا لیں۔۔۔ فقط دو ہی دنوں میں ہونے والےدونوں واقعات کے بارے میں سوچتے ہوئے جہاں میری روح کانپ رہی تھی وہیں کہیں نہ کہیں سر فخر سے بلند بھی ہو رہا تھا مگر ساتھ ہی ساتھ میں یہ سوچ کے شرمسار بھی تھا کہ میں کس عظیم مملکت کا شہری ہوں کہ جہاں ملک کے لئے دو جنگیں لڑنے والے اور دس سال فوج کی کمان سنبھالنے والے کو ہم غدار کے لقب سے پکارتے ہیں، سینکڑوں ارب کی کرپشن کرنے کے الزام میں گیارە سال جیل میں رہنے والے شخص کو صدرِ پاکستان بناتے اور عہدە چھوڑنے کے بعد عدالت میں پیشی کے وقت کم و بیش ستر گاڑیوں کے سیکیورٹی کانوے میں پروٹوکول دیتے ہیں جب کہ دن رات ہماری جان کی حفاظت اور ملک دشمن دہشت گردوں سے ٹکرانے والے چوہدری اسلم کی اگر ایک بم پروف گاڑی خراب ہو جاٴے تو سانُو کی۔۔۔ 

میں تو بس یہ ہی سوچ رہا ہوں کہ جب چوہدری صاحب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہوں گے تو ایک باپ کی حیثیت سے کیا کیا سوچیں اُن کے دل اور دماغ میں چیخیں مار رہی ہوں گی اور اعتزاز بنگش کے باپ پربس اُس ایک لمحے میں کیا کچھ گزر گئی ہو گی جب اُس نے جواں سال اعتزاز کو قبر میں اتارا ہو گا۔۔۔ ایک باپ کے لئے اِس سے بڑا کرب کیا ہو سکتا ہے یہ بس ایک باپ ہی جان سکتا ہے۔۔۔  

ایک باپ ہونے کے ناطے چوہدری صاحب اور اعتزاز بنگش کا دکھ تو میں شائید سمجھ بھی جاٴوں مگر اِس دھرتی ماں پر دن رات جو بیتتی ہے اُسے ہے کوئی سمجھنے والا کیونکہ اُسے سمجھنے کے لئے ایک ماں کا دل چاہئیے جو کم از کم میرے پاس تو نہیں۔۔۔ 

Monday, January 6, 2014

تین دن لڑکی اِن

تین دن لڑکی اِن

جی ہاں اصل ڈائیلاگ کچھ اور تھا۔۔۔ جی "چھ دن لڑکی اِن" مگر میں ٹہرا اِک شدید پاکستانی ڈنڈی مارنا تو بنتا ہے۔۔ جب ہمارے سابق صدر صاحب سے متعلق کیا قومی بلکہ برطانوی میڈیا تک لکھ بیٹھا تھا کہ حضور کتنے صادق اور کتنے امین تھے تو میں اِک سادە خوشبو پاکستانی کیسے اِس نعمتِ بد دیانتی سے محروم رە سکتا تھامگر، جانے دیجئے صاحب ہم جس مُلک میں رہتے ہیں وہاں حقیقتوں کی اوقات ہی کیا۔۔۔ اجی اگر ہوتی تو کیا یوں اِس مُلک کے بنانے والے کو کوئی کیسے اِتنی آسانی سے کافرِآعظم قرار دے کے اُسی کے بناے ہوئے مُلک میں سینہ ٹھوک کے اپنی سیاسی دکان چمکاتے نظر آتا۔۔ میرے پیارے وطن میں اگر حقیقتوں کی کوئی حیثیت ہوتی تو دنیا کی تاریخ کے سب سے پہلے اور شائید واحد بھی "سول مارشل لاٴ ایڈمِنسٹریٹر" کو آج یہ مُلک عوام کے سب سے بڑے جمہوری لیڈر کے طور پر یاد نہ کر رہا ہوتا جِن کی خود کی پیدائیش فوجی کُوک میں ہوئی، اُس فوجی جنرل پر بھی کسی نے غداری کا اِلزام لگایا ہوتا جس نے اسلامی دنیا کی تاریخ کا سیاە ترین باب اپنے نوے ہزار (٩٠٬٠٠٠) فوجیوں کے ساتھ ہتھیار ڈال کے رقم کیا تھا اور اُن تمام اربابِ اختیار پے بھی تو آئین کی کوئی نہ کوئی آرٹیکل لگا ہی چھوڑتے ہم کہ کیونکر تم سب کی وجہ سے ہمارا یہ مُلک دو لخت ہو گیا۔۔ 

حقیقتوں کی کوئی وُقت ہوتی یہاں تو کسی کے مقدمہِ قتل میں پھانسی چڑھنے والے کو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی آج قوم شہید کے لقب سےنہ پکار رہی ہوتی اور اُس کو لٹکانے والے آمر کی گود میں بیٹھ کر پنجاب کی صوبائی کابینہ تک پہنچنے والے اور بعد میں اُسی آمر کے مقبرے پہ کھڑے ہو کر اُس کے مشن کو آگے بڑہانے کے وعدے اور دعوے کرنے والے اور اُن کی آل اولاد آج اِس ملک میں یوں جمہور اور جمہوریت کے سب سے بڑے چمپئین نہ ہوتے جو بیچارے شائید جمہور کے جِیم سے بھی واقف نہیں ہیں۔۔۔ 

حقیقت سے نظریں چرانے کا عالم تو یہ ہے کہ اپنے ہی مُلک کے آئین میں درج الفاظ کو اپنے مفاد کیلیئے تسلیم کر لینا اور جب جی کرے مُکر جانا سمجھئے بس ایک روزمرە کی مشق سی بن گئی ہے۔۔۔ جی ہاں وہی آئین جس کے خالق پاکستان کی سابقہ حکومتی اور آج کی حزبِ اختلاف کی جماعت کے بانی رہنما خود تھے۔۔۔ کہتے ہیں کہ وە حضرت ایک وژنری سیاسی رہنما تھے تو کیا آئینِ پاکستان بناتے وقت وە نہیں جانتے تھے کہ آنے والے دنوں میں اِس ملک کی آبادی کِس تناسُب سے بڑھے گی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے انتظامی معاملات چلانے کے لئے مزید انتظامی یونٹس یعنی کہ نئے صوبوں کی تشکیل وقت کی ضرورت بن جائیگی؟؟؟ جی ہاں وە یہ جانتے تھے اِسی لئے آئین میں اِس معاملے کی گنجائیش رکھی گئی تھی وە الگ بات ہے کے اُن کے سیاسی جانشین یا تو ان کی سیاست کے حقیقی وادث نہیں یا پھر اُنہیں آکسفورڈ میں اپنے نانا کے قوم سے کئے وعدے کی لاج رکھنے کا سبق نہیں دیا گیا۔۔۔ یہاں قابلِ زکر امر یہ ہے کہ یہی جماعت چند سال قبل ہی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی زور و شور سے حمائیت کرتے پائی گئی تھی اور اِس مطالبے میں اُس وقت نا تو غداری کی کوئی بُو تھی نہ ہی مُلک توڑنے کی کوئی خوشبو۔۔۔ اب زرا زکر کر لیتے ہیں نئی نویلی جمہوریت پسند جماعت کے بھتیجے شریف کی جو کل نیوز چینلز پے بڑےہی چراغ پا نظر آئے اور بتاتے پائے گئے کہ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائیندە جماعت کے قائید کے بیان سے پورے پاکستان کے لوگوں کے دل دُکھ گئے ہیں۔۔۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اپنے تایا شریف اور ابا شریف کی مرہونِ منت اسمبلی کی کرسی تک پہنچنے والے یہ حضرت اگر آزاد صورت میں الیکشن لڑیں تو شائید یونین کونسل کی ایک سیٹ نکالنا بھی اِن کی لئے ایک مشکل پرچہ ثابت ہو۔۔۔ جس آئین کے آرٹئیکل سکس کو پکڑ کے اِن حضرت کی جماعت سابق آرمی چیف کو غدارِوطن ثابت کرنےپر تُلی ہے اُسی آئین کو یہ حضور اگر زرا غور سے پڑھ لیں تو اِن کے لئے دُکھتے ہوئے پاکستانی دِلوں کی رہنمائی کچھ آسان ہو سکتی ہے۔۔۔ اُن دکھتے دلوں کو حضور زرا یہ بھی بتا دیجئے گا کے ابا شریف اور تایا شریف بس کچھ ہی دنوں پہلےہزارە صوبے کی جس طرح زوردار حمائیت کر گزرے تھے وە بس جوشِ خطابت ہی تھا یا کچھ اور؟؟ 

خیر جناب قصہ مختصر یہ کہ کئی دہائیوں سے جاری سرائیکی اور ہزارە صوبہ  تحریک پے اتنی بڑی بحث اور اتنا شورشرابہ آج تک نہ ہوسکا جتنا بس تین دِن میں سندھ کے شہری علاقوں سے اُٹھنےوالی آواز پر واویلا مچا دیاگیا۔۔۔ فقط تین دِن میں سندھ دھرتی کی تقسیم سے لے کر مُلک توڑنے تک کے الزامات سامنے آچُکے ہیں کہنے والے تو یہاں تک کہہ گئے کے جِن لوگوں کو رہنے کے لئے جگہ دی وە آج ایسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ کالا باغ ڈیم کا مسعلہ ہو یا سندھیوں کے حقوق کی جنگ، بلوچوں کا احساسِ محرومی ہو یا موجودە خیبر پختونخواە حکومت کا وفاق سے بجٹ نہ ملنے کا تنازعہ سب ہی کھلے یا دبے الفاظ میں آذادی، علیحدە وطن اور سقوطِ ڈھاکہ جیسے واقعات کا حوالہ دے کر کھلم کھلا ملک توڑنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں مگر کیا کیجے نہ تو اُن سب کا تعلق سندھ کے شہری علاقوں سے تھا نہ ہی وە لوگ اپنے اجداد کے حُکم  پہ بانیانِ پاکستان کے پیچھے اپنا سب کچھ ہندوستان میں چھوڑ چھاڑ یہاں چلے آئے تھے۔۔۔۔ 

اِس لئے تین دہائیوں سے ہونے والے ایک مطالبے پے کسی کو تکلیف نہ ہوئی مگر اُسی جیسے ایک مطالبے پر فقط تین دِن میں ہی اُودھم مچ گیا تو بس مان لیجئے کے "چھ دِن" والا ڈائیلاگ بولنے والے ہیرو سے بڑا ہیرو آپ کے پاس ہے جس نے بس "تین دِن" میں ہی بڑے بڑے تُرم خانوں کی چیخیں نکلوادیں۔۔۔

اِس بلاگ میں زکر کئے گئے تمام ہی حضرات سے بندە معزرت خواە ہے۔۔ شکریہ

AK


The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan