Wednesday, January 29, 2014

بنام عزت معاب وزیرِاعظم اِسلامی جمہوریہِ پاکستان جناب محترم میاں محمد نواز شریف صاحب

کھُلا ڈُلا خط

بنام عزت معاب وزیرِاعظم اِسلامی جمہوریہِ پاکستان
جناب محترم میاں محمد نواز شریف صاحب 

السلام وعلیکُم!

ہم یہاں خیرئیت سے ہیں اور آپ کی خیرئیت بھی خداوندِکریم کی زات سے نیک مطلوب ہے۔۔۔ حضور ہم اور ہمارے آگے پیچھے پھرنے والے قریباً سب ہی احباب آپ کی صحت اور لمبی عمر کے لئے ہمیشہ ہی دعاگو رہا کرتے تھے مگر اِس بار جب سے آپ اِسلام آباد مُنتقل ہوئے ہیں آپ کے حُسن پہ تو جیسے چار چاند ہی لگ گئے ہیں اور وە چار چاند کوئی اور نہیں آپ کے بہت ہی قریبی جناب چوہدری داخلہ صاحب، اپنے جنابِ عابد شیر بجلی صاحب، جناب رانا قانونِ پنجاب صاحب اور ہم سب کے جانے مانے صحافی ٹائیپ مُنشی جنابِ عرفان انکل سرگم شامل ہیں۔۔۔ 

خیر حضور قصہ مختصر یہ کہ کئی مہینوں کے بعد آج جب آپ نے قومی اِسمبلی کو عزت بخشی تو میں اور مجھ جیسے کئی احباب آپ کے مُمکنہ خطاب اور اُس کے بعد پیدا ہونے والی مُمکنہ صورتِ حال سے نہ صرف خوفزدە تھے بلکہ ہم نے تو راەِ فرار کا مُکمل ارادە بھی کر لیا تھا۔۔۔ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ شائید آپ انتخابات سے قبل کئے گئے اپنے وعدے یا تو بھُول گئے ہیں یا پھر ہمارے حقیقی خیر خواە وە تمام ہی اصحاب جن کا زکر ہم نے اوپر والے پیراگراف میں کیا ہے آپ نے اُن کی بات سننا اور اُن کے مشوروں پے کان دھرنا بند کر دئیے ہیں۔۔۔ 

مگر آپ کی آج کی تقریر کے بعد ہمارا یہ گُمان شدید یقین میں تبدیل ہو گیا ہے کہ حضور کو اِس مُلک کے ١٨ کروڑ عوام، فوجیوں، پولیس اہلکاروں، پولیو رضاکاروں اور اقلیتوں کا خیال ہو نہ ہو مگر حضور کا دل ہماری محبت سے سرشار اور ہمارے مسائل سے کبھی غافل نہیں ہو سکتے۔۔۔ آپ کے آج کے خطاب سے یہ بھی طے ہو گیا کہ کم از کم ہمارے جیسے سب ہی احباب کے لئے یہ ملک اور اِس سر زمین سے زیادە محفوظ اور کوئی مقام ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ اب سوال صرف اور صرف یہ باقی رە جاتا ہے کہ یہ جو مزاکراتی بِگُل آپ نے آج بجایا ہے اِس کا اطلاق صرف اور صرف طالبانی طرز کے قاتلوں اور جرائم پیشہ حضرات پر ہوتا ہے یا مجھ جیسے ناچیز بھی اِس عمل سے کچھ فائیدەاُٹھا سکتے ہیں جو کراچی جیسے شہر کے معصوم عوام اور تاجروں کا جینا حرام کئیے ہوئے ہیں؟؟؟ 

ویسے آپس کی بات ہے حضور جب آپ نے کراچی میں آپریشن شروع کیا تھا اور دنیا کی تاریخ کے سب سے قدیم ترین وزیرِاعلی جناب ہمیشہ سے قائم علی شاە صاحب کو اُس آپریشن ٹائیپ کسی چیز کا کپتان مُقرر کیا تھا ہم تو تب سے ہی اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادە محفوظ محسوس کرنا شروع ہو گئے تھے کیونکہ ایک بات جو روزِاول سے طے تھی کہ یہ آپریشن "ٹاگیٹیڈ" ہو گا تو ہم تب سے ہی مطمئن تھے کے ٹارگیٹ کِلر بھی کبھی ٹارگیٹ بنا ہے اور پھر جِن لوگوں کو اِس آپریشن کے زریعے ٹارگیٹ بنایا جانا تھا وە تو پہلےہی سے ہمارے جیسے لوگوں کے ٹارگیٹ پر تھے تو اِس طرح تو ہم پہلے سے ہی وە کام کر رہے تو جِس کے لئے اتنی دھوم دھام سے سرکار تیاری کر رہی تھی یعنی کے کراچی کے معصوم عوام کو نشانہ بنانا تو اِس طرح تو ہم بھی سرکار کے اِتحادی ہوئے نہ حضور وە آپ کیا کہتے ہیں "اِسٹیک ہولڈر"۔۔۔ 

حضور آپ کی آج کی حوصلہ افزا تقریر اور مولانا عمران الرحمان  کے جوابی خطبات سننے کے بعد اب آپ سے بس یہی درخواست ہے کے اپنی مزاکراتی ٹیم کو حکم صادر فرمائیے کہ جلد از جلد کراچی کا ایک دورە فرمائیں ہم سے اور ہمارے جیسے اصحاب سے بس ایک ملاقات کرلیں اور ہماری تمام ہی شرائط بِنا کسی حُجت کے مان جائیں اور پھر ہمارے مزاکرات طالبانی طرز کے حضرات سے بھی لگے ہاتھوں کرواڈالیں تاکہ ہم تمام ہی افراد مِل جُل کر اِس ملک اور اِس میں رہنے والے عوام کی ایسی تیسی کر سکیں اور آپ اور آپ کے اہلِخانہ سکون سے یوں ہی اگلے پانچ سال حُکمرانی کرتے رہیں۔۔۔ 

حضور بڑی ہمت کر کے آپ کو یہ رُقعہ تحریر کیا ہے کیونکہ ایک بات تو طے ہے کہ آپ سے بہتر ہمارے دُکھ اور درد کو سمجھنے والا اور یہاں کون ہے۔۔۔   

فقط والسلام 
آپ کا شدید اپنا
نامعلوم 






AK
Sent from my iPad

Sunday, January 12, 2014

قصہ کچھ ملاقاتوں کا ۔۔۔ قسط نمبر٢ ... لانڈھی کا ایک کونا۔۔۔

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔

قسط نمبر ٢
لانڈھی کا ایک کونا۔۔۔

جیسا کے میں نے چاۓ بسکُٹ شروع کرنے سے پہلے ہی بتایا تھا کہ اِس سیریز کے تمام ہی بلاگ میرے بچپن کی کچھ ناخلف حرکات و سکنات کے بیچ پیش آئےکچھ معقول واقعات کےاردگرد ہی آوارە گردی کرتے پائے جائیں گے ہاں مگریہ الگ بات ہے کہ بچپن یا لڑکپن کی یادیں اب کچھ قدیم سی محسوس ہونے لگی ہیں۔۔۔ نہیں نہیں حضرت قائم علی شاە جتنی قدیم تو بلکل بھی نہیں۔۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اچھے خاصے حضرات اور شائید کئی خواتین بھی میرے ہر بلاگ میں جناب شاە صاحب کے زکر پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہوں گےاور  کچھ تو شائید مجھے ایسے القابات سے بھی یاد کر رہے ہوں گے جن میں یا تو گھریلو قسم کی خواتین کا زکر ہوگا یا پھر کچھ جسمانی اعضاٴ کا۔۔۔ خیر صاحب مجھے کیا مجھے تو بس مطلب ہے تو اپنے بلاگ پیج پر پڑنے والے کِلکِس سے۔۔۔ جی جی بلکل مایا خان ٹائیپ چھاپا آننٹئیوں کی طرح۔۔۔ ریٹنگ کے لئے سالا کچھ بھی کرے گا ٹائیپ 

بہرحال اِس سب تاویل کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ تمام ہی بلاگز کم عمری کی کچھ ٹوٹی پھوٹی یادوں کو جوڑ کر آپ تک پہنچائے جا رہے ہیں۔۔۔ تو صاحب میں بچپن سے ہی اپنا ابا کے کچھ زیادە قریب رہا ہوں اور ابا کو بھی شائید مجھے وقت سے پہلے بڑا کرنے کی جلدی تھی۔۔۔ اِس کی میرے نزدیک تو بس دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ شائید وە جانتے تھے کہ اُن کے بیٹے کو ہر کام وقت اور عمر سے پہلے کرنے کا شوق ہے یا پھر وە میری تربیت شروع سے ہی اِس انداز سے کرنا چاہتے تھے کہ کچے زہن میں جو کچھ ڈالا جائے وە شائید زندگی بھر آپ کے ساتھ رہتا ہے۔۔۔ خیر صاحب وجہ کوئی بھی اِس کا فائیدە صرف اور صرف مجھے ہی ہوا ہے۔۔۔ تو بس ایک دِن ابا کہیں جارہے تھے اور اُنہوں نے والدە صاحبہ کو مجھے بھی تیار کرنے کا کہا بس مجھے کیا تھا فٹافٹ تیار ہوا اور ہو لیا ابا کے ساتھ۔۔۔ کچھ اچھی طرح یاد نہیں کہ ابا اور میں بس پر سوار ہوئے یا ابا کے کسی دوست کی موٹرسائیکل پے بیٹھے (اُن دنوں ابا کے پاس اپنی کوئی سواری نا تھی اور ہم عام طور سے بس یا ٹیکسی میں سفر کیا کرتے تھے) تو چل پڑی سواری کراچی کے ایک مضافاتی علاقے اسٹیل ٹاوٴن سے۔۔۔ شام شائید ڈھل رہی تھی کوئی آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم لانڈھی کی ایک چھوٹی سی گلی میں جا پہنچے جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا ایک شامیانہ لگا ہوا تھا اور کُل ملا کے دس سے بارە افراد کچھ ڈرے سہمے سے کھڑے تھے۔۔۔ یہ تمام ماحول دیکھ کر ہمارے دماغ میں بہت سے سوال ابھرے جیسے کے جب شامیانہ لگا ہوا ہے تو کھانے کی دیگوں سے اُٹھتا ہوا دھواں اور کھانوں کی خوشبو کیوں نہیں ہے، شامیانے کے آس پاس یا اندر سے گانے بجانے اور ڈھول ڈھمکے کی آوازیں کیوں نہیں آرہی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ زرق برق جوڑوں والی جھلملاتی آنٹئیاں، خالایں اور باجیاں کہاں ہیں۔۔۔ بحر حال اُن سہمے ہوئے لوگوں کی ایک عجب حرکت یہ بھی تھی کے وە وہاں سے گزرنے والے ہر ایک شخص کو بہت مشکوک انداز سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ وە الگ بات ہے کے وہاں کھڑے لوگوں کے چہروں پرطاری خوف کی وجہ ہمیں اب جا کر سمجھ آئی ہے تو آپ کو بھی بتا دیتے ہیں کہ  اُس خوف کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ شاە فیصل مسجد اسلام آباد میں مدفون ایک صاحب کا اُس وقت کے سیاسی لوگوں سے بے پناە پیار تھا جو اُس وقت صدرِمملکت تھے۔۔۔ خیر صاحب کچھ ہی دیر میں کچھ اور لوگ وہاں پہنچے اور شامیانے میں بچھی فرشی نشستوں پر براجمان ہو گئے۔۔۔ اب وہاں موجود افراد کی تعداد کُل ملا کے بھی ٢٠ سے زیادە نہ تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سفید کرتا پاجامہ اور کالی ویسٹ کوٹ میں ملبوس الطاف بھائی بڑی ہی شان سے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ شامیانے میں داخل ہوئے خوداعتمادی کا عالم یہ تھا کہ جیسے شامیانے میں ١۵سے٢٠ نہیں بلکہ شائید پندرە بیس ہزار افراد کا کوئی مجمع اُن کا منتظر ہو۔۔۔ میں اُس عمر میں بھی میں اُن کی شخصیت کے اِس پہلو سے متاثرہوئے بِنا نہیں رە سکا۔۔۔ جہاں تک میری یادادشت کام کرتی ہے بغیر کسی تاخیر کے تقریب جسے لوگ "تربیتی نشست" کہہ رہے تھے کا آغاز کر دیا گیا۔۔۔ الطاف بھائی سے ہوئی پہلی ملاقات سے اِس تربیتی نشست کے وقفہ میں جو شائید کچھ ہفتوں پر محیط تھا گھر میں ابا کی الطاف بھائی سے متعلق کچھ نہ کچھ باتیں سننے کا اتفاق ہوا تو میں نے اپنے آپ ہی اُنہیں آئیڈیلائیز کرنا شروع کردیا تھا۔۔ 

قصہ مختصر یہ کہ الطاف بھائی کچھ آٹھ دس چوکیوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے اسٹیج پر تشریف فرما تھے یہ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کے اُن سے پہلے کسی نے اُس نشست سے خطاب کیا یا نہیں مگر مجھے جیسے جناب الطاف حسین کی اُس روز کی ہوئی تقریباً پوری ہی تقریر یاد ہے اور اُس کی وجہ کچھ اور نہیں صرف مقرر کی موضوع پر گرفت اور اندازِخطابت تھا۔۔۔ الطاف بھائی نے اپنے خطاب کی ابتدا "اعوذوبالله مِن اشیطان الرجیم" اور "بسم الله الرحمن الرحيم" کے ترجمے اور تشریح سے کی اور پھر سورەِ فاتحہ کی تلاوت اور لفظ بلفظ ترجمے کے ساتھ ساتھ تشریح بیان کرتے گئے اور پوری تربیتی نشست کا موضوع جیسے سورەِ فاتحہ اورالله تعالی کی طرف سے اتارے گئے اِس سورۃ کے ایک ایک لفظ کے گِرد جیسے گھومنے لگا۔۔۔ میں نے پہلی بار کسی مقرر کو موضوع پے اتنی مظبوط گرفت کے ساتھ گفتگو کرتے سُنا تھا۔۔۔ گو کے میری عمر اُس وقت کچھ زیادە نہیں تھی مگر یہ بات طے ہے کے میں آج تک وە تقریر اور تقریب بھلا نہ سکا ہوں۔۔۔ شائید وە تقریر میری اب تک کی سنی ہوئی بہترین تقاریر میں سے ایک ہے یا شائید سب سے بہترین۔۔۔ 

خطاب کے اختیتام پر جس کا دورانیہ کم و بیش پونے گھنٹے کا رہا ہو گا ساتھیوں کے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور الطاف بھائی نے تقریباً تمام ہی ساتھیوں کو تسلی سے جوابات دے کر مطمئن کیا۔۔ اِس سوال جواب سیشن میں ایک ساتھی کی جانب سےایک ایسا سوال اُٹھایا گیا کہ جس پرملنے والے جواب نے کم از کم مجھے آج اُٹھنے والے ایک سوال کا جواب دو، ڈھائی دہائیوں پہلےہی دے دیا تھا۔۔۔ سوال تو پورا مجھے یاد نہیں مگر سوال کے متن میں کہیں ایم کیو ایم کو ایک سیاسی جماعت کہا گیا تھا جس پر الطاف بھائی نے اُن ساتھی کی فوری تصحیح کی کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔۔۔ اُن کا کہنا تھا کے سیاسی جماعتیں سیاست کرتی ہیں اور تحاریک میں حرکت اور جدوجہد ہوتی ہے جو نہ کبھی رکتی ہے اور نہ ہی کبھی ختم ہوتی ہے کیونکہ اگر تحاریک متحرک نہ رہیں تو وە تاریخ کا حصہ بن جایا کرتی ہیں۔۔۔

بات بہت جامع اور مکمل تھی مجھےتو آج تک یاد ہے اور شائید یہی وجہ ہے کہ لانڈھی کے ایک کونے میں تربیتی نشست کا اِنقعاد کرنے والی اُس تحریک کو آج پاکستان کے ہر کونے میں جانا اور مانا جاتا ہے۔۔۔ 


اگر آپ کو آج کی قسط پسند آئی ہے تواگلی قسط کے لئےیوں ہی اپنی کمپیوٹر اسکرین سے جُڑے رہئیے اور اگر پسند نہیں بھی آئی تب بھی جڑے ہی رہئیےشائید اگلی والی پسند آجائے۔۔۔



AK
The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com


Saturday, January 11, 2014

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔ 
قسط نمبر ١ 
چاۓ بسکُٹ

بات چونکہ خاصی پرانی ہے مگر اتنی بھی نہیں جتنے اپنے وزیرِاعلی سندھ جناب شاە صاحب اور اُن جتنی پرانی ہو بھی کیسے سکتی ہے اُن کے زمانے کی تو باتوں کی بھی بس یوں سمجھئے کے اب تو ایکسپائیری ڈیٹ گزر چکی ہے۔۔۔ 

خیر جناب تو بات ہے بس اب سے کچھ سال پہلے یعنی کے میرے بچپن یا شائید لڑکپن کے دنوں کی میری عمر کُل ملا کے بس کوئی ساڑھے آٹھ یا نو سال سے زیادە نہیں تھی۔۔۔ اب آپ سب تو جانتے ہی ہیں کے یہ عمر کھیلنے کی کم اور کودنے کی زیادە ہوتی ہے تو بس شائید کوئی جمعہ یا سنیچر کا دن تھا (اُس زمانے میں جمعہ کو ہمارے اسکول کی ہفتہ وار تعطیل ہوا کرتی تھی) تو بس جناب کھیل اور کود میں مصروف تھے کہ اچانک مخبری ہوئی کے ابا کے کچھ دوست گھر پر تشریف لا رہے ہیں۔۔۔ بس یہ خبر سن کے ایسی خوشی محسوس ہوئی جیسے آج کل کبھی کبھار سی این جی پمپ کھلا نظر آنے سے ہوتی ہے۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے ابا کے دوستوں کے آنے سے ہمیں کیا فائیدە تھا تو جناب جب گھر پر مہمان آیا کرتے تھے تو اُن کے لئے کیا جانے والا چاۓ پانی کا بندوبست اُن کے جانے کے فوری بعد ہم جیسے کمینے بچوں کے کام آیا کرتا تھا۔۔ 

خیر جناب ایک بات جو اُس روز کچھ الگ تھی وە یہ کے آج والدِمحترم کچھ غیر معمولی خوش نظر آرہے تھے اور ہم سے زیادە شدت سے وە خود اپنے دوستوں کا انتظار کر رہے تھے جس سے شروع میں تو ہمیں یہ گمان ہوا کہ شائید والدە صاحبہ نے اُن پہ بھی مہمانوں کے ساتھ چاۓ بسکُٹ کھانے پر پابندی عائید کر دی ہے۔۔۔ مگر جناب حقیقت تو کچھ اور ہی تھی اور اُس حقیقت کا احساس ہمیں تب ہوا جب وە حضرات تشریف لائے۔۔۔ تو صاحب کُل ملا کے کوئی آٹھ سے دس افراد ہمارے گھر تشریف لائے اُس زمانے میں ہم اسٹیل ٹاون کے ایک چھوٹے سے سرکاری کوارٹر میں رہا کرتے تھے۔۔۔ آنے والے مہمانوں میں تین چار حضرات ایسے تھے جن سے ہماری ملاقات پہلے سے تھی کیونکہ وە حضرات وہیں قریب میں رہائیش پزیر تھے اور اکثر ابا کے پاس آیا کرتے تھے مگر کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں ہم پہلی دفعہ اپنے گھر میں دیکھ رہے تھے۔۔ خیر جناب کیونکہ چھوٹا سا کوارٹر تھا اِس لئے ڈرائینگ روم کی پرائیویسی کا کچھ خاص ماحول نہ تھا۔۔۔ ابا اپنے دوستوں کو ڈرائینگ روم میں بیٹھا کر اندر آئے اور مجھے اور میرے بڑے بھائی صاحب کو اپنے ساتھ ڈرائینگ روم میں لے گئےجہاں تقریباً تمام ہی احباب سفید کرتا پاجامہ پہنے فرشی نشست پر براجمان تھے۔۔۔ والد صاحب کے حکم پر تمام ہی افراد سے باری باری سلام دعا کی جو حضرات ہمیں اور ہم اُن کو جانتے تھے اُن سے ملاقات کے بعد ابا نے اپنے کچھ نئے احباب کا تعرف کروایا۔۔۔ اُن تمام حضرات کے نام ہمیں باری باری بتائے گئے اور اُن کو ہمارے اور یوں یہ ہاتھ ملانے کا سیشن تمام ہوا تو ہم نے بھی ایک کونے میں اپنی معصوم سی تشریف ٹکانے کا ادارە کیا مگر اُس روز خلافِ توقع والد صاحب نہائیت ہی پیار سے ہمیں کمرے سے باہر جانے کا حکم دیا۔۔۔ ہمیں تو جیسے جھٹکے پہ جھٹکے لگنے کا دن تھا۔۔۔ لگنے والے اُن تمام جھٹکوں میں سےایک جھٹکا یہ بھی تھا کہ ابا اپنے سے عمر میں کم دکھنے والے ایک صاحب کو بار بار "الطاف بھائی الطاف بھائی" کہہ کر مخاطب کر رہے تھے اور اُن سے گفتگو کا انداز بھی شدید موٴدبانہ تھا۔۔ خیر صاحب ہمیں کیا تھا ہمیں تو مطلب تھا تو بس الطاف بھائی نامی صاحب کے جانے کے بعد ملنے والے کچھ بچے کُچے بسکُٹوں سے۔۔۔ 

خیر صاحب والد صاحب کے حکم کے مطابق ہم دونوں بھائی ڈرائینگ روم سے باہر آگئے۔۔ ابا بھی باہر آئے اور قران شریف لے کے واپس ڈرائینگ روم میں چلے گئے اور ڈرائینگ کا دروازە بند کر لیا۔۔۔ اور پھر ڈرائینگ روم کا دروازە ایک طویل دورانیہ کی اور قدرے سنجیدە ماحول کی ملاقات کے بعد کھلا۔۔۔ والد صاحب باہر تشریف لائے اور چائے بسکُٹ کی ٹرے لے کے دوبارە ڈرائینگ روم میں چلے گئے اور اِس بار نہ صرف دروازە کھلا چھوڑ دیا بلکہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے گئے اور یوں اِس ناچیز کو ساڑھے آٹھ۔نو سال کی عمر میں ہی جناب قائیدِ تحریک کے پہلو میں بیٹھ بغیر ابا کی ڈانٹ کے خوف سے خوب بسکُٹ کھانے کا موقع ملا۔۔۔ بہت ساری دوسری حیرت انگیز باتوں کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے ابا کے چہرے پر ایک خاص قسم کی خوشی اور اطمینان بھی دیکھی۔۔۔ نہائیت کچا زہن تھا اُس وقت تو کچھ سمجھ نہ آیا مگر بس اُس کے بعد الطاف بھائی سے ہوئی کچھ ہی ملاقاتوں میں میں اپنے ابا کی اُس خوشی اور اطمینان کا راز جان گیا تھا۔۔۔ بحرحال چائے کے بعد الطاف بھائی اور اُن کے ساتھ آئے ہوئے احباب نے اجازت لی تو ابا نے بس اسٹاپ تک انہیں خود چھوڑنے پر اصرار کیا تو  ہم بھی ابا کی انگلی پکڑ کے ساتھ ہو لئے۔۔ بس عصر اور مغرب کے بیچ کا ہی کوئی وقت تھا تمام ہی حضرات ٹہلتے ہوئے بس اسٹاپ تک آئے وہاں سے الطاف بھائی اور اُن کے رفقا جن میں شائید ڈاکٹر عمران فاروق شہید بھی شامل تھے کو ایک ٹیکسی میں سوار کرا کے روانہ کیا اور اپنے گھر کی طرف واپس چہل قدمی شروع کر دی۔۔۔

آج تک کے لئے اِتنا ہی کل دوبارە الطاف بھائی کے ساتھ ہوئی اپنی دوسری ملاقات کے احوال کے ساتھ آپ کی کمپیوٹر اسکرین پر حاضر ہوں گا۔۔۔ تب تک کے لئے الله حافظ۔۔۔

پاکستان ذندە باد




AK
The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com




Friday, January 10, 2014

ایک باپ، ایک بیٹا اور ایک ماں۔۔۔

ایک باپ، ایک بیٹا اور ایک ماں۔۔۔
نو جنوری میری زندگی کی کچھ اُن تاریخوں میں سے ایک تاریخ ہے جسے شائید میں اپنے مرنےوالے دن تک نہ بھول پاٴوں اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ بہت سادە ہےاور وە یہ کہ یہ میری تاریخِ پیدائیش ہے۔۔۔ میرا ایک دوست مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ انسان کی زندگی میں تین مواقع ایسے ہوتے ہیں جن مواقعوں کو ایک تو انسان کبھی بھول نہیں سکتا اور اُن مواقعوں پر انسان سب کی توجہ کا مرکز بھی ہوتا ایک اُس کی پیدائیش کا دن ایک اُس کی شادی کا دن اور ایک اُس کی موت کا دن۔۔۔ اُس وقت اُس دوست کی یہ بات بالکل درست محسوس ہوتی تھی کیونکہ اُس وقت مجھے پیدائیش کے علاوە کسی اور دوسرے موقع کا تجربہ ہی نہیں تھا۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک دن ایسا بھی آیا جب میں رشتہِ ازدواج میں منسلک ہوا اور اُس دن مجھے میرے دوست کے بتائے ہوئے تین میں سے دوسرے موقع کا تجربہ ہوا اور مجھے احساس ہوا کہ وە بالکل صحیح کہتا تھا۔۔۔ 

شادی کے ٹھیک ایک سال بعد جب میرے گھر میں بیٹے کی پیدائیش ہوئی تو مجھے اندازە ہوا کے یہ اِک ایسا موقعہ ہے جس کا زکر میرے دوست نے اپنے فلسفہٴِ زندگی میں نہیں کیا تھا مگر شائید میں کبھی بھی اِس دن اور اس دن پر ملنے والی خوشی کو نا بھلا سکوں۔۔۔ خیر جناب ہر سال کی طرح اِس سال بھی میری سالگرە کی تیاری میری بیگم صاحبہ اور میرے بیٹے نے کر رکھی تھی مگر چونکہ صاحبزادے کو صبح اسکول کے لئے جلدی سونا تھا تو حضرت آٹھ جنوری کی رات نو بجے ہی مجھے ہیپی برتھ ڈے بول کے سو گئے۔۔۔ اپنی اولاد سے ہیپی برتھڈے سننے کا بھی اپنا ہی لطف ہے صاحب۔۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ بیوی بچوں  کے سو جانے کے بعد میں اپنا کچھ کام کرنے بیٹھ گیا۔۔۔ الصبح کوئی پانچ چھ بجے کے قریب ٹیلیوژن پر بریکنگ نیوز دیکھی کہ تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد اپنے کراچی پولیس کے شیر جوان جناب چوہدری اسلم (شہید) کے ہتھے چڑھ گئے اور مزاحمت کرنے پر چوہدری صاحب کے ہاتھوں جہنم واصل ہو گئے۔۔ خبر دیکھ کے دل سے خوشی ہوئی۔۔ چوہدری صاحب مرحوم سے متعلق ایسی خبر جب بھی آتی تھی تو بس جیسے دل کو ایک سکون سا مل جایا کرتا تھا کہ آج کے اِس نفسہ نفسی کے دور میں بھی ہمارا کوئی اپنا ہمارے لئے اُن درندوں اور ہم عام لوگوں کے بیچ دیوار بنے کھڑا ہے۔۔ بس اِسی اطمینان کے ساتھ کل بھی نیند آگئی مجھے اور میں بس بے فکری کی نیند سو گیا۔۔۔ 

سارا دن سونے کے بعد جب قریباً ساڑھے پانچ بجے میری آنکھ کھلی تو اپنے موبائیل پر ایک ایس ایم ایس پایا جس میں حسن اسکوائر کے قریب ہوئے کسی دھماکے کا زکر تھا۔۔۔ بس اُسی وقت میرا بیٹا کمرے میں زور زور سے "ہیپی برتھ ڈے ٹویو بابا" گاتا ہوا داخل ہوا۔۔ کمرے کا دروازە کھلنے کی وجہ سے ٹیلیوژن پے چلنے والی کسی بریکنگ نیوز کو اپنے ناظرین تک پہنچانے والی ایک خاتون اینکر کی چیختی ہوئی آواز میرے کانوں تک پہنچی "اور اِس دھماکے کے نتیجے میں اُن کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں" میں تیزی سے کمرے سے باہر آیا تو مجھ پر تو جیسے قیامت ہی گزر گئی اُس ایک لمحے میں بس ایسا لگا کہ جیسے کوئی بہت اپنا کہیں دور چلا گیا ہو بہت دور۔۔۔ دماغ جیسے ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ صبح جس شخص کے کئے ایک کام کی وجہ سے میں سکون کی نیند سویا تھا اُس نیند کے ٹوٹتے ہی یہ احساس بھی ہمیشہ کے لئے دم توڑ دے گا کہ "کہیں کوئی اپنا ہے"۔۔۔ 

بریکنگ نیوز، تجزیعے اور تبصرے جاری تھے اور میں نہ جانے کیوں عجب اضطراب کی سی کیفیت میں تھا اور پھر محترمہ نورین اسلم صاحبہ کا آڈیو بیپر میری سماعت سے گزرا اور اُن کے ہمت و حوصلے نے مجھے حیران کردیا۔۔۔ وە واقعی ایک با ہمت اور حوصلہ مند خاتون ہیں ان کے ہی توسط سے پتہ چلا کے چوہدری صاحب تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے مشفق باپ بھی تھے اور ایک باپ ہونے کے ناطے میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کے اولاد کی تنہائی اور لاوارثی کا تصور بھی جیسے روح کو جھنجھوڑ سا دیتا ہے مگر بقول نورین صاحبہ کے چوہدری صاحب اس حقیقت سے خوب واقف تھے اُن کے ساتھ یہ سب ہو سکتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وە اِن سفاک درندوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں اپنے بچوں کا خیال کئے بغیر میرے اور آپ کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لئے اپنی آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہے۔۔۔ ایک ایسا باپ اب ہم میں نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم میں سے بُہتوں کے بچے آج یتیم نہیں ہیں۔۔۔ 

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ بس دو روز قبل ہی صوبہ خیبر پختونخواە کے ضلع ہنگو میں ایک چودە سالا بچےاعتزاز بنگش نے اپنی جان دے کر ایک خودکش حملہ ناکام بنا ڈالا۔۔ جی ہاں اِس ملک کی ایک ماں نے ایسا بیٹا بھی پیدا کیا ہے جس نے اپنی جان دے کے اپنے اسکول میں پڑھنے والے سینکڑوں بیٹوں اور بیٹیوں  کی ماٴوں کی گودیں اُجڑنے سے بچا لیں۔۔۔ فقط دو ہی دنوں میں ہونے والےدونوں واقعات کے بارے میں سوچتے ہوئے جہاں میری روح کانپ رہی تھی وہیں کہیں نہ کہیں سر فخر سے بلند بھی ہو رہا تھا مگر ساتھ ہی ساتھ میں یہ سوچ کے شرمسار بھی تھا کہ میں کس عظیم مملکت کا شہری ہوں کہ جہاں ملک کے لئے دو جنگیں لڑنے والے اور دس سال فوج کی کمان سنبھالنے والے کو ہم غدار کے لقب سے پکارتے ہیں، سینکڑوں ارب کی کرپشن کرنے کے الزام میں گیارە سال جیل میں رہنے والے شخص کو صدرِ پاکستان بناتے اور عہدە چھوڑنے کے بعد عدالت میں پیشی کے وقت کم و بیش ستر گاڑیوں کے سیکیورٹی کانوے میں پروٹوکول دیتے ہیں جب کہ دن رات ہماری جان کی حفاظت اور ملک دشمن دہشت گردوں سے ٹکرانے والے چوہدری اسلم کی اگر ایک بم پروف گاڑی خراب ہو جاٴے تو سانُو کی۔۔۔ 

میں تو بس یہ ہی سوچ رہا ہوں کہ جب چوہدری صاحب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہوں گے تو ایک باپ کی حیثیت سے کیا کیا سوچیں اُن کے دل اور دماغ میں چیخیں مار رہی ہوں گی اور اعتزاز بنگش کے باپ پربس اُس ایک لمحے میں کیا کچھ گزر گئی ہو گی جب اُس نے جواں سال اعتزاز کو قبر میں اتارا ہو گا۔۔۔ ایک باپ کے لئے اِس سے بڑا کرب کیا ہو سکتا ہے یہ بس ایک باپ ہی جان سکتا ہے۔۔۔  

ایک باپ ہونے کے ناطے چوہدری صاحب اور اعتزاز بنگش کا دکھ تو میں شائید سمجھ بھی جاٴوں مگر اِس دھرتی ماں پر دن رات جو بیتتی ہے اُسے ہے کوئی سمجھنے والا کیونکہ اُسے سمجھنے کے لئے ایک ماں کا دل چاہئیے جو کم از کم میرے پاس تو نہیں۔۔۔ 

Monday, January 6, 2014

تین دن لڑکی اِن

تین دن لڑکی اِن

جی ہاں اصل ڈائیلاگ کچھ اور تھا۔۔۔ جی "چھ دن لڑکی اِن" مگر میں ٹہرا اِک شدید پاکستانی ڈنڈی مارنا تو بنتا ہے۔۔ جب ہمارے سابق صدر صاحب سے متعلق کیا قومی بلکہ برطانوی میڈیا تک لکھ بیٹھا تھا کہ حضور کتنے صادق اور کتنے امین تھے تو میں اِک سادە خوشبو پاکستانی کیسے اِس نعمتِ بد دیانتی سے محروم رە سکتا تھامگر، جانے دیجئے صاحب ہم جس مُلک میں رہتے ہیں وہاں حقیقتوں کی اوقات ہی کیا۔۔۔ اجی اگر ہوتی تو کیا یوں اِس مُلک کے بنانے والے کو کوئی کیسے اِتنی آسانی سے کافرِآعظم قرار دے کے اُسی کے بناے ہوئے مُلک میں سینہ ٹھوک کے اپنی سیاسی دکان چمکاتے نظر آتا۔۔ میرے پیارے وطن میں اگر حقیقتوں کی کوئی حیثیت ہوتی تو دنیا کی تاریخ کے سب سے پہلے اور شائید واحد بھی "سول مارشل لاٴ ایڈمِنسٹریٹر" کو آج یہ مُلک عوام کے سب سے بڑے جمہوری لیڈر کے طور پر یاد نہ کر رہا ہوتا جِن کی خود کی پیدائیش فوجی کُوک میں ہوئی، اُس فوجی جنرل پر بھی کسی نے غداری کا اِلزام لگایا ہوتا جس نے اسلامی دنیا کی تاریخ کا سیاە ترین باب اپنے نوے ہزار (٩٠٬٠٠٠) فوجیوں کے ساتھ ہتھیار ڈال کے رقم کیا تھا اور اُن تمام اربابِ اختیار پے بھی تو آئین کی کوئی نہ کوئی آرٹیکل لگا ہی چھوڑتے ہم کہ کیونکر تم سب کی وجہ سے ہمارا یہ مُلک دو لخت ہو گیا۔۔ 

حقیقتوں کی کوئی وُقت ہوتی یہاں تو کسی کے مقدمہِ قتل میں پھانسی چڑھنے والے کو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی آج قوم شہید کے لقب سےنہ پکار رہی ہوتی اور اُس کو لٹکانے والے آمر کی گود میں بیٹھ کر پنجاب کی صوبائی کابینہ تک پہنچنے والے اور بعد میں اُسی آمر کے مقبرے پہ کھڑے ہو کر اُس کے مشن کو آگے بڑہانے کے وعدے اور دعوے کرنے والے اور اُن کی آل اولاد آج اِس ملک میں یوں جمہور اور جمہوریت کے سب سے بڑے چمپئین نہ ہوتے جو بیچارے شائید جمہور کے جِیم سے بھی واقف نہیں ہیں۔۔۔ 

حقیقت سے نظریں چرانے کا عالم تو یہ ہے کہ اپنے ہی مُلک کے آئین میں درج الفاظ کو اپنے مفاد کیلیئے تسلیم کر لینا اور جب جی کرے مُکر جانا سمجھئے بس ایک روزمرە کی مشق سی بن گئی ہے۔۔۔ جی ہاں وہی آئین جس کے خالق پاکستان کی سابقہ حکومتی اور آج کی حزبِ اختلاف کی جماعت کے بانی رہنما خود تھے۔۔۔ کہتے ہیں کہ وە حضرت ایک وژنری سیاسی رہنما تھے تو کیا آئینِ پاکستان بناتے وقت وە نہیں جانتے تھے کہ آنے والے دنوں میں اِس ملک کی آبادی کِس تناسُب سے بڑھے گی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے انتظامی معاملات چلانے کے لئے مزید انتظامی یونٹس یعنی کہ نئے صوبوں کی تشکیل وقت کی ضرورت بن جائیگی؟؟؟ جی ہاں وە یہ جانتے تھے اِسی لئے آئین میں اِس معاملے کی گنجائیش رکھی گئی تھی وە الگ بات ہے کے اُن کے سیاسی جانشین یا تو ان کی سیاست کے حقیقی وادث نہیں یا پھر اُنہیں آکسفورڈ میں اپنے نانا کے قوم سے کئے وعدے کی لاج رکھنے کا سبق نہیں دیا گیا۔۔۔ یہاں قابلِ زکر امر یہ ہے کہ یہی جماعت چند سال قبل ہی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی زور و شور سے حمائیت کرتے پائی گئی تھی اور اِس مطالبے میں اُس وقت نا تو غداری کی کوئی بُو تھی نہ ہی مُلک توڑنے کی کوئی خوشبو۔۔۔ اب زرا زکر کر لیتے ہیں نئی نویلی جمہوریت پسند جماعت کے بھتیجے شریف کی جو کل نیوز چینلز پے بڑےہی چراغ پا نظر آئے اور بتاتے پائے گئے کہ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائیندە جماعت کے قائید کے بیان سے پورے پاکستان کے لوگوں کے دل دُکھ گئے ہیں۔۔۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اپنے تایا شریف اور ابا شریف کی مرہونِ منت اسمبلی کی کرسی تک پہنچنے والے یہ حضرت اگر آزاد صورت میں الیکشن لڑیں تو شائید یونین کونسل کی ایک سیٹ نکالنا بھی اِن کی لئے ایک مشکل پرچہ ثابت ہو۔۔۔ جس آئین کے آرٹئیکل سکس کو پکڑ کے اِن حضرت کی جماعت سابق آرمی چیف کو غدارِوطن ثابت کرنےپر تُلی ہے اُسی آئین کو یہ حضور اگر زرا غور سے پڑھ لیں تو اِن کے لئے دُکھتے ہوئے پاکستانی دِلوں کی رہنمائی کچھ آسان ہو سکتی ہے۔۔۔ اُن دکھتے دلوں کو حضور زرا یہ بھی بتا دیجئے گا کے ابا شریف اور تایا شریف بس کچھ ہی دنوں پہلےہزارە صوبے کی جس طرح زوردار حمائیت کر گزرے تھے وە بس جوشِ خطابت ہی تھا یا کچھ اور؟؟ 

خیر جناب قصہ مختصر یہ کہ کئی دہائیوں سے جاری سرائیکی اور ہزارە صوبہ  تحریک پے اتنی بڑی بحث اور اتنا شورشرابہ آج تک نہ ہوسکا جتنا بس تین دِن میں سندھ کے شہری علاقوں سے اُٹھنےوالی آواز پر واویلا مچا دیاگیا۔۔۔ فقط تین دِن میں سندھ دھرتی کی تقسیم سے لے کر مُلک توڑنے تک کے الزامات سامنے آچُکے ہیں کہنے والے تو یہاں تک کہہ گئے کے جِن لوگوں کو رہنے کے لئے جگہ دی وە آج ایسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ کالا باغ ڈیم کا مسعلہ ہو یا سندھیوں کے حقوق کی جنگ، بلوچوں کا احساسِ محرومی ہو یا موجودە خیبر پختونخواە حکومت کا وفاق سے بجٹ نہ ملنے کا تنازعہ سب ہی کھلے یا دبے الفاظ میں آذادی، علیحدە وطن اور سقوطِ ڈھاکہ جیسے واقعات کا حوالہ دے کر کھلم کھلا ملک توڑنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں مگر کیا کیجے نہ تو اُن سب کا تعلق سندھ کے شہری علاقوں سے تھا نہ ہی وە لوگ اپنے اجداد کے حُکم  پہ بانیانِ پاکستان کے پیچھے اپنا سب کچھ ہندوستان میں چھوڑ چھاڑ یہاں چلے آئے تھے۔۔۔۔ 

اِس لئے تین دہائیوں سے ہونے والے ایک مطالبے پے کسی کو تکلیف نہ ہوئی مگر اُسی جیسے ایک مطالبے پر فقط تین دِن میں ہی اُودھم مچ گیا تو بس مان لیجئے کے "چھ دِن" والا ڈائیلاگ بولنے والے ہیرو سے بڑا ہیرو آپ کے پاس ہے جس نے بس "تین دِن" میں ہی بڑے بڑے تُرم خانوں کی چیخیں نکلوادیں۔۔۔

اِس بلاگ میں زکر کئے گئے تمام ہی حضرات سے بندە معزرت خواە ہے۔۔ شکریہ

AK


The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan