Saturday, January 11, 2014

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔ 
قسط نمبر ١ 
چاۓ بسکُٹ

بات چونکہ خاصی پرانی ہے مگر اتنی بھی نہیں جتنے اپنے وزیرِاعلی سندھ جناب شاە صاحب اور اُن جتنی پرانی ہو بھی کیسے سکتی ہے اُن کے زمانے کی تو باتوں کی بھی بس یوں سمجھئے کے اب تو ایکسپائیری ڈیٹ گزر چکی ہے۔۔۔ 

خیر جناب تو بات ہے بس اب سے کچھ سال پہلے یعنی کے میرے بچپن یا شائید لڑکپن کے دنوں کی میری عمر کُل ملا کے بس کوئی ساڑھے آٹھ یا نو سال سے زیادە نہیں تھی۔۔۔ اب آپ سب تو جانتے ہی ہیں کے یہ عمر کھیلنے کی کم اور کودنے کی زیادە ہوتی ہے تو بس شائید کوئی جمعہ یا سنیچر کا دن تھا (اُس زمانے میں جمعہ کو ہمارے اسکول کی ہفتہ وار تعطیل ہوا کرتی تھی) تو بس جناب کھیل اور کود میں مصروف تھے کہ اچانک مخبری ہوئی کے ابا کے کچھ دوست گھر پر تشریف لا رہے ہیں۔۔۔ بس یہ خبر سن کے ایسی خوشی محسوس ہوئی جیسے آج کل کبھی کبھار سی این جی پمپ کھلا نظر آنے سے ہوتی ہے۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے ابا کے دوستوں کے آنے سے ہمیں کیا فائیدە تھا تو جناب جب گھر پر مہمان آیا کرتے تھے تو اُن کے لئے کیا جانے والا چاۓ پانی کا بندوبست اُن کے جانے کے فوری بعد ہم جیسے کمینے بچوں کے کام آیا کرتا تھا۔۔ 

خیر جناب ایک بات جو اُس روز کچھ الگ تھی وە یہ کے آج والدِمحترم کچھ غیر معمولی خوش نظر آرہے تھے اور ہم سے زیادە شدت سے وە خود اپنے دوستوں کا انتظار کر رہے تھے جس سے شروع میں تو ہمیں یہ گمان ہوا کہ شائید والدە صاحبہ نے اُن پہ بھی مہمانوں کے ساتھ چاۓ بسکُٹ کھانے پر پابندی عائید کر دی ہے۔۔۔ مگر جناب حقیقت تو کچھ اور ہی تھی اور اُس حقیقت کا احساس ہمیں تب ہوا جب وە حضرات تشریف لائے۔۔۔ تو صاحب کُل ملا کے کوئی آٹھ سے دس افراد ہمارے گھر تشریف لائے اُس زمانے میں ہم اسٹیل ٹاون کے ایک چھوٹے سے سرکاری کوارٹر میں رہا کرتے تھے۔۔۔ آنے والے مہمانوں میں تین چار حضرات ایسے تھے جن سے ہماری ملاقات پہلے سے تھی کیونکہ وە حضرات وہیں قریب میں رہائیش پزیر تھے اور اکثر ابا کے پاس آیا کرتے تھے مگر کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں ہم پہلی دفعہ اپنے گھر میں دیکھ رہے تھے۔۔ خیر جناب کیونکہ چھوٹا سا کوارٹر تھا اِس لئے ڈرائینگ روم کی پرائیویسی کا کچھ خاص ماحول نہ تھا۔۔۔ ابا اپنے دوستوں کو ڈرائینگ روم میں بیٹھا کر اندر آئے اور مجھے اور میرے بڑے بھائی صاحب کو اپنے ساتھ ڈرائینگ روم میں لے گئےجہاں تقریباً تمام ہی احباب سفید کرتا پاجامہ پہنے فرشی نشست پر براجمان تھے۔۔۔ والد صاحب کے حکم پر تمام ہی افراد سے باری باری سلام دعا کی جو حضرات ہمیں اور ہم اُن کو جانتے تھے اُن سے ملاقات کے بعد ابا نے اپنے کچھ نئے احباب کا تعرف کروایا۔۔۔ اُن تمام حضرات کے نام ہمیں باری باری بتائے گئے اور اُن کو ہمارے اور یوں یہ ہاتھ ملانے کا سیشن تمام ہوا تو ہم نے بھی ایک کونے میں اپنی معصوم سی تشریف ٹکانے کا ادارە کیا مگر اُس روز خلافِ توقع والد صاحب نہائیت ہی پیار سے ہمیں کمرے سے باہر جانے کا حکم دیا۔۔۔ ہمیں تو جیسے جھٹکے پہ جھٹکے لگنے کا دن تھا۔۔۔ لگنے والے اُن تمام جھٹکوں میں سےایک جھٹکا یہ بھی تھا کہ ابا اپنے سے عمر میں کم دکھنے والے ایک صاحب کو بار بار "الطاف بھائی الطاف بھائی" کہہ کر مخاطب کر رہے تھے اور اُن سے گفتگو کا انداز بھی شدید موٴدبانہ تھا۔۔ خیر صاحب ہمیں کیا تھا ہمیں تو مطلب تھا تو بس الطاف بھائی نامی صاحب کے جانے کے بعد ملنے والے کچھ بچے کُچے بسکُٹوں سے۔۔۔ 

خیر صاحب والد صاحب کے حکم کے مطابق ہم دونوں بھائی ڈرائینگ روم سے باہر آگئے۔۔ ابا بھی باہر آئے اور قران شریف لے کے واپس ڈرائینگ روم میں چلے گئے اور ڈرائینگ کا دروازە بند کر لیا۔۔۔ اور پھر ڈرائینگ روم کا دروازە ایک طویل دورانیہ کی اور قدرے سنجیدە ماحول کی ملاقات کے بعد کھلا۔۔۔ والد صاحب باہر تشریف لائے اور چائے بسکُٹ کی ٹرے لے کے دوبارە ڈرائینگ روم میں چلے گئے اور اِس بار نہ صرف دروازە کھلا چھوڑ دیا بلکہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے گئے اور یوں اِس ناچیز کو ساڑھے آٹھ۔نو سال کی عمر میں ہی جناب قائیدِ تحریک کے پہلو میں بیٹھ بغیر ابا کی ڈانٹ کے خوف سے خوب بسکُٹ کھانے کا موقع ملا۔۔۔ بہت ساری دوسری حیرت انگیز باتوں کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے ابا کے چہرے پر ایک خاص قسم کی خوشی اور اطمینان بھی دیکھی۔۔۔ نہائیت کچا زہن تھا اُس وقت تو کچھ سمجھ نہ آیا مگر بس اُس کے بعد الطاف بھائی سے ہوئی کچھ ہی ملاقاتوں میں میں اپنے ابا کی اُس خوشی اور اطمینان کا راز جان گیا تھا۔۔۔ بحرحال چائے کے بعد الطاف بھائی اور اُن کے ساتھ آئے ہوئے احباب نے اجازت لی تو ابا نے بس اسٹاپ تک انہیں خود چھوڑنے پر اصرار کیا تو  ہم بھی ابا کی انگلی پکڑ کے ساتھ ہو لئے۔۔ بس عصر اور مغرب کے بیچ کا ہی کوئی وقت تھا تمام ہی حضرات ٹہلتے ہوئے بس اسٹاپ تک آئے وہاں سے الطاف بھائی اور اُن کے رفقا جن میں شائید ڈاکٹر عمران فاروق شہید بھی شامل تھے کو ایک ٹیکسی میں سوار کرا کے روانہ کیا اور اپنے گھر کی طرف واپس چہل قدمی شروع کر دی۔۔۔

آج تک کے لئے اِتنا ہی کل دوبارە الطاف بھائی کے ساتھ ہوئی اپنی دوسری ملاقات کے احوال کے ساتھ آپ کی کمپیوٹر اسکرین پر حاضر ہوں گا۔۔۔ تب تک کے لئے الله حافظ۔۔۔

پاکستان ذندە باد




AK
The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com




No comments:

Post a Comment