تین دن لڑکی اِن
جی ہاں اصل ڈائیلاگ کچھ اور تھا۔۔۔ جی "چھ دن لڑکی اِن" مگر میں ٹہرا اِک شدید پاکستانی ڈنڈی مارنا تو بنتا ہے۔۔ جب ہمارے سابق صدر صاحب سے متعلق کیا قومی بلکہ برطانوی میڈیا تک لکھ بیٹھا تھا کہ حضور کتنے صادق اور کتنے امین تھے تو میں اِک سادە خوشبو پاکستانی کیسے اِس نعمتِ بد دیانتی سے محروم رە سکتا تھامگر، جانے دیجئے صاحب ہم جس مُلک میں رہتے ہیں وہاں حقیقتوں کی اوقات ہی کیا۔۔۔ اجی اگر ہوتی تو کیا یوں اِس مُلک کے بنانے والے کو کوئی کیسے اِتنی آسانی سے کافرِآعظم قرار دے کے اُسی کے بناے ہوئے مُلک میں سینہ ٹھوک کے اپنی سیاسی دکان چمکاتے نظر آتا۔۔ میرے پیارے وطن میں اگر حقیقتوں کی کوئی حیثیت ہوتی تو دنیا کی تاریخ کے سب سے پہلے اور شائید واحد بھی "سول مارشل لاٴ ایڈمِنسٹریٹر" کو آج یہ مُلک عوام کے سب سے بڑے جمہوری لیڈر کے طور پر یاد نہ کر رہا ہوتا جِن کی خود کی پیدائیش فوجی کُوک میں ہوئی، اُس فوجی جنرل پر بھی کسی نے غداری کا اِلزام لگایا ہوتا جس نے اسلامی دنیا کی تاریخ کا سیاە ترین باب اپنے نوے ہزار (٩٠٬٠٠٠) فوجیوں کے ساتھ ہتھیار ڈال کے رقم کیا تھا اور اُن تمام اربابِ اختیار پے بھی تو آئین کی کوئی نہ کوئی آرٹیکل لگا ہی چھوڑتے ہم کہ کیونکر تم سب کی وجہ سے ہمارا یہ مُلک دو لخت ہو گیا۔۔
حقیقتوں کی کوئی وُقت ہوتی یہاں تو کسی کے مقدمہِ قتل میں پھانسی چڑھنے والے کو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی آج قوم شہید کے لقب سےنہ پکار رہی ہوتی اور اُس کو لٹکانے والے آمر کی گود میں بیٹھ کر پنجاب کی صوبائی کابینہ تک پہنچنے والے اور بعد میں اُسی آمر کے مقبرے پہ کھڑے ہو کر اُس کے مشن کو آگے بڑہانے کے وعدے اور دعوے کرنے والے اور اُن کی آل اولاد آج اِس ملک میں یوں جمہور اور جمہوریت کے سب سے بڑے چمپئین نہ ہوتے جو بیچارے شائید جمہور کے جِیم سے بھی واقف نہیں ہیں۔۔۔
حقیقت سے نظریں چرانے کا عالم تو یہ ہے کہ اپنے ہی مُلک کے آئین میں درج الفاظ کو اپنے مفاد کیلیئے تسلیم کر لینا اور جب جی کرے مُکر جانا سمجھئے بس ایک روزمرە کی مشق سی بن گئی ہے۔۔۔ جی ہاں وہی آئین جس کے خالق پاکستان کی سابقہ حکومتی اور آج کی حزبِ اختلاف کی جماعت کے بانی رہنما خود تھے۔۔۔ کہتے ہیں کہ وە حضرت ایک وژنری سیاسی رہنما تھے تو کیا آئینِ پاکستان بناتے وقت وە نہیں جانتے تھے کہ آنے والے دنوں میں اِس ملک کی آبادی کِس تناسُب سے بڑھے گی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے انتظامی معاملات چلانے کے لئے مزید انتظامی یونٹس یعنی کہ نئے صوبوں کی تشکیل وقت کی ضرورت بن جائیگی؟؟؟ جی ہاں وە یہ جانتے تھے اِسی لئے آئین میں اِس معاملے کی گنجائیش رکھی گئی تھی وە الگ بات ہے کے اُن کے سیاسی جانشین یا تو ان کی سیاست کے حقیقی وادث نہیں یا پھر اُنہیں آکسفورڈ میں اپنے نانا کے قوم سے کئے وعدے کی لاج رکھنے کا سبق نہیں دیا گیا۔۔۔ یہاں قابلِ زکر امر یہ ہے کہ یہی جماعت چند سال قبل ہی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی زور و شور سے حمائیت کرتے پائی گئی تھی اور اِس مطالبے میں اُس وقت نا تو غداری کی کوئی بُو تھی نہ ہی مُلک توڑنے کی کوئی خوشبو۔۔۔ اب زرا زکر کر لیتے ہیں نئی نویلی جمہوریت پسند جماعت کے بھتیجے شریف کی جو کل نیوز چینلز پے بڑےہی چراغ پا نظر آئے اور بتاتے پائے گئے کہ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائیندە جماعت کے قائید کے بیان سے پورے پاکستان کے لوگوں کے دل دُکھ گئے ہیں۔۔۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اپنے تایا شریف اور ابا شریف کی مرہونِ منت اسمبلی کی کرسی تک پہنچنے والے یہ حضرت اگر آزاد صورت میں الیکشن لڑیں تو شائید یونین کونسل کی ایک سیٹ نکالنا بھی اِن کی لئے ایک مشکل پرچہ ثابت ہو۔۔۔ جس آئین کے آرٹئیکل سکس کو پکڑ کے اِن حضرت کی جماعت سابق آرمی چیف کو غدارِوطن ثابت کرنےپر تُلی ہے اُسی آئین کو یہ حضور اگر زرا غور سے پڑھ لیں تو اِن کے لئے دُکھتے ہوئے پاکستانی دِلوں کی رہنمائی کچھ آسان ہو سکتی ہے۔۔۔ اُن دکھتے دلوں کو حضور زرا یہ بھی بتا دیجئے گا کے ابا شریف اور تایا شریف بس کچھ ہی دنوں پہلےہزارە صوبے کی جس طرح زوردار حمائیت کر گزرے تھے وە بس جوشِ خطابت ہی تھا یا کچھ اور؟؟
خیر جناب قصہ مختصر یہ کہ کئی دہائیوں سے جاری سرائیکی اور ہزارە صوبہ تحریک پے اتنی بڑی بحث اور اتنا شورشرابہ آج تک نہ ہوسکا جتنا بس تین دِن میں سندھ کے شہری علاقوں سے اُٹھنےوالی آواز پر واویلا مچا دیاگیا۔۔۔ فقط تین دِن میں سندھ دھرتی کی تقسیم سے لے کر مُلک توڑنے تک کے الزامات سامنے آچُکے ہیں کہنے والے تو یہاں تک کہہ گئے کے جِن لوگوں کو رہنے کے لئے جگہ دی وە آج ایسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ کالا باغ ڈیم کا مسعلہ ہو یا سندھیوں کے حقوق کی جنگ، بلوچوں کا احساسِ محرومی ہو یا موجودە خیبر پختونخواە حکومت کا وفاق سے بجٹ نہ ملنے کا تنازعہ سب ہی کھلے یا دبے الفاظ میں آذادی، علیحدە وطن اور سقوطِ ڈھاکہ جیسے واقعات کا حوالہ دے کر کھلم کھلا ملک توڑنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں مگر کیا کیجے نہ تو اُن سب کا تعلق سندھ کے شہری علاقوں سے تھا نہ ہی وە لوگ اپنے اجداد کے حُکم پہ بانیانِ پاکستان کے پیچھے اپنا سب کچھ ہندوستان میں چھوڑ چھاڑ یہاں چلے آئے تھے۔۔۔۔
اِس لئے تین دہائیوں سے ہونے والے ایک مطالبے پے کسی کو تکلیف نہ ہوئی مگر اُسی جیسے ایک مطالبے پر فقط تین دِن میں ہی اُودھم مچ گیا تو بس مان لیجئے کے "چھ دِن" والا ڈائیلاگ بولنے والے ہیرو سے بڑا ہیرو آپ کے پاس ہے جس نے بس "تین دِن" میں ہی بڑے بڑے تُرم خانوں کی چیخیں نکلوادیں۔۔۔
اِس بلاگ میں زکر کئے گئے تمام ہی حضرات سے بندە معزرت خواە ہے۔۔ شکریہ
AK
The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail. com
Yes its true k agar hamza shareef ko apnay bal pe aik union council ki seat ka bhi election larna par giya to unko chatti ka doodh yaad aajata
ReplyDeleteVery Well Written
ReplyDeleteThese SO CALLED son of soils will never understand the meaning of sacrifice, "plate mae rakha halwa kisy burra lagta hae". Yet we had made history & ready to imprint again.
ReplyDeleteHazraat acha likha hai.
ReplyDeleteSir Jeeeeeeeee
ReplyDeleteTuhadi Gul te theek hai !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!! Per..................Parnala Othay hee rehna hai.............Aur Har Samjhdar Pakistani ne..................Hallat per Kurhte Hee Rehna hai.