ایک باپ، ایک بیٹا اور ایک ماں۔۔۔
نو جنوری میری زندگی کی کچھ اُن تاریخوں میں سے ایک تاریخ ہے جسے شائید میں اپنے مرنےوالے دن تک نہ بھول پاٴوں اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ بہت سادە ہےاور وە یہ کہ یہ میری تاریخِ پیدائیش ہے۔۔۔ میرا ایک دوست مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ انسان کی زندگی میں تین مواقع ایسے ہوتے ہیں جن مواقعوں کو ایک تو انسان کبھی بھول نہیں سکتا اور اُن مواقعوں پر انسان سب کی توجہ کا مرکز بھی ہوتا ایک اُس کی پیدائیش کا دن ایک اُس کی شادی کا دن اور ایک اُس کی موت کا دن۔۔۔ اُس وقت اُس دوست کی یہ بات بالکل درست محسوس ہوتی تھی کیونکہ اُس وقت مجھے پیدائیش کے علاوە کسی اور دوسرے موقع کا تجربہ ہی نہیں تھا۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک دن ایسا بھی آیا جب میں رشتہِ ازدواج میں منسلک ہوا اور اُس دن مجھے میرے دوست کے بتائے ہوئے تین میں سے دوسرے موقع کا تجربہ ہوا اور مجھے احساس ہوا کہ وە بالکل صحیح کہتا تھا۔۔۔
شادی کے ٹھیک ایک سال بعد جب میرے گھر میں بیٹے کی پیدائیش ہوئی تو مجھے اندازە ہوا کے یہ اِک ایسا موقعہ ہے جس کا زکر میرے دوست نے اپنے فلسفہٴِ زندگی میں نہیں کیا تھا مگر شائید میں کبھی بھی اِس دن اور اس دن پر ملنے والی خوشی کو نا بھلا سکوں۔۔۔ خیر جناب ہر سال کی طرح اِس سال بھی میری سالگرە کی تیاری میری بیگم صاحبہ اور میرے بیٹے نے کر رکھی تھی مگر چونکہ صاحبزادے کو صبح اسکول کے لئے جلدی سونا تھا تو حضرت آٹھ جنوری کی رات نو بجے ہی مجھے ہیپی برتھ ڈے بول کے سو گئے۔۔۔ اپنی اولاد سے ہیپی برتھڈے سننے کا بھی اپنا ہی لطف ہے صاحب۔۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ بیوی بچوں کے سو جانے کے بعد میں اپنا کچھ کام کرنے بیٹھ گیا۔۔۔ الصبح کوئی پانچ چھ بجے کے قریب ٹیلیوژن پر بریکنگ نیوز دیکھی کہ تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد اپنے کراچی پولیس کے شیر جوان جناب چوہدری اسلم (شہید) کے ہتھے چڑھ گئے اور مزاحمت کرنے پر چوہدری صاحب کے ہاتھوں جہنم واصل ہو گئے۔۔ خبر دیکھ کے دل سے خوشی ہوئی۔۔ چوہدری صاحب مرحوم سے متعلق ایسی خبر جب بھی آتی تھی تو بس جیسے دل کو ایک سکون سا مل جایا کرتا تھا کہ آج کے اِس نفسہ نفسی کے دور میں بھی ہمارا کوئی اپنا ہمارے لئے اُن درندوں اور ہم عام لوگوں کے بیچ دیوار بنے کھڑا ہے۔۔ بس اِسی اطمینان کے ساتھ کل بھی نیند آگئی مجھے اور میں بس بے فکری کی نیند سو گیا۔۔۔
سارا دن سونے کے بعد جب قریباً ساڑھے پانچ بجے میری آنکھ کھلی تو اپنے موبائیل پر ایک ایس ایم ایس پایا جس میں حسن اسکوائر کے قریب ہوئے کسی دھماکے کا زکر تھا۔۔۔ بس اُسی وقت میرا بیٹا کمرے میں زور زور سے "ہیپی برتھ ڈے ٹویو بابا" گاتا ہوا داخل ہوا۔۔ کمرے کا دروازە کھلنے کی وجہ سے ٹیلیوژن پے چلنے والی کسی بریکنگ نیوز کو اپنے ناظرین تک پہنچانے والی ایک خاتون اینکر کی چیختی ہوئی آواز میرے کانوں تک پہنچی "اور اِس دھماکے کے نتیجے میں اُن کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں" میں تیزی سے کمرے سے باہر آیا تو مجھ پر تو جیسے قیامت ہی گزر گئی اُس ایک لمحے میں بس ایسا لگا کہ جیسے کوئی بہت اپنا کہیں دور چلا گیا ہو بہت دور۔۔۔ دماغ جیسے ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ صبح جس شخص کے کئے ایک کام کی وجہ سے میں سکون کی نیند سویا تھا اُس نیند کے ٹوٹتے ہی یہ احساس بھی ہمیشہ کے لئے دم توڑ دے گا کہ "کہیں کوئی اپنا ہے"۔۔۔
بریکنگ نیوز، تجزیعے اور تبصرے جاری تھے اور میں نہ جانے کیوں عجب اضطراب کی سی کیفیت میں تھا اور پھر محترمہ نورین اسلم صاحبہ کا آڈیو بیپر میری سماعت سے گزرا اور اُن کے ہمت و حوصلے نے مجھے حیران کردیا۔۔۔ وە واقعی ایک با ہمت اور حوصلہ مند خاتون ہیں ان کے ہی توسط سے پتہ چلا کے چوہدری صاحب تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے مشفق باپ بھی تھے اور ایک باپ ہونے کے ناطے میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کے اولاد کی تنہائی اور لاوارثی کا تصور بھی جیسے روح کو جھنجھوڑ سا دیتا ہے مگر بقول نورین صاحبہ کے چوہدری صاحب اس حقیقت سے خوب واقف تھے اُن کے ساتھ یہ سب ہو سکتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وە اِن سفاک درندوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں اپنے بچوں کا خیال کئے بغیر میرے اور آپ کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لئے اپنی آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہے۔۔۔ ایک ایسا باپ اب ہم میں نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم میں سے بُہتوں کے بچے آج یتیم نہیں ہیں۔۔۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ بس دو روز قبل ہی صوبہ خیبر پختونخواە کے ضلع ہنگو میں ایک چودە سالا بچےاعتزاز بنگش نے اپنی جان دے کر ایک خودکش حملہ ناکام بنا ڈالا۔۔ جی ہاں اِس ملک کی ایک ماں نے ایسا بیٹا بھی پیدا کیا ہے جس نے اپنی جان دے کے اپنے اسکول میں پڑھنے والے سینکڑوں بیٹوں اور بیٹیوں کی ماٴوں کی گودیں اُجڑنے سے بچا لیں۔۔۔ فقط دو ہی دنوں میں ہونے والےدونوں واقعات کے بارے میں سوچتے ہوئے جہاں میری روح کانپ رہی تھی وہیں کہیں نہ کہیں سر فخر سے بلند بھی ہو رہا تھا مگر ساتھ ہی ساتھ میں یہ سوچ کے شرمسار بھی تھا کہ میں کس عظیم مملکت کا شہری ہوں کہ جہاں ملک کے لئے دو جنگیں لڑنے والے اور دس سال فوج کی کمان سنبھالنے والے کو ہم غدار کے لقب سے پکارتے ہیں، سینکڑوں ارب کی کرپشن کرنے کے الزام میں گیارە سال جیل میں رہنے والے شخص کو صدرِ پاکستان بناتے اور عہدە چھوڑنے کے بعد عدالت میں پیشی کے وقت کم و بیش ستر گاڑیوں کے سیکیورٹی کانوے میں پروٹوکول دیتے ہیں جب کہ دن رات ہماری جان کی حفاظت اور ملک دشمن دہشت گردوں سے ٹکرانے والے چوہدری اسلم کی اگر ایک بم پروف گاڑی خراب ہو جاٴے تو سانُو کی۔۔۔
میں تو بس یہ ہی سوچ رہا ہوں کہ جب چوہدری صاحب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہوں گے تو ایک باپ کی حیثیت سے کیا کیا سوچیں اُن کے دل اور دماغ میں چیخیں مار رہی ہوں گی اور اعتزاز بنگش کے باپ پربس اُس ایک لمحے میں کیا کچھ گزر گئی ہو گی جب اُس نے جواں سال اعتزاز کو قبر میں اتارا ہو گا۔۔۔ ایک باپ کے لئے اِس سے بڑا کرب کیا ہو سکتا ہے یہ بس ایک باپ ہی جان سکتا ہے۔۔۔
ایک باپ ہونے کے ناطے چوہدری صاحب اور اعتزاز بنگش کا دکھ تو میں شائید سمجھ بھی جاٴوں مگر اِس دھرتی ماں پر دن رات جو بیتتی ہے اُسے ہے کوئی سمجھنے والا کیونکہ اُسے سمجھنے کے لئے ایک ماں کا دل چاہئیے جو کم از کم میرے پاس تو نہیں۔۔۔
Very Emotional & Well Described... At Time Made Proud & At Time Give Goose Bumps. Nicely Written.
ReplyDeleteVery realistic aapproch and the feelings of every common man in a very simple way.
ReplyDeleteWorth reading, emotional and reality based writing but let me tell you dear writer; I am very clear in my mind that Army, brave soldiers like CH.Aslam and Son of Soil like Aitizaz Hasan are proud martyred. We sisters, mothers of this nation salute them ! Pakistan Zindabad
ReplyDelete