Sunday, January 12, 2014

قصہ کچھ ملاقاتوں کا ۔۔۔ قسط نمبر٢ ... لانڈھی کا ایک کونا۔۔۔

قصہ کچھ ملاقاتوں کا۔۔۔

قسط نمبر ٢
لانڈھی کا ایک کونا۔۔۔

جیسا کے میں نے چاۓ بسکُٹ شروع کرنے سے پہلے ہی بتایا تھا کہ اِس سیریز کے تمام ہی بلاگ میرے بچپن کی کچھ ناخلف حرکات و سکنات کے بیچ پیش آئےکچھ معقول واقعات کےاردگرد ہی آوارە گردی کرتے پائے جائیں گے ہاں مگریہ الگ بات ہے کہ بچپن یا لڑکپن کی یادیں اب کچھ قدیم سی محسوس ہونے لگی ہیں۔۔۔ نہیں نہیں حضرت قائم علی شاە جتنی قدیم تو بلکل بھی نہیں۔۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اچھے خاصے حضرات اور شائید کئی خواتین بھی میرے ہر بلاگ میں جناب شاە صاحب کے زکر پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہوں گےاور  کچھ تو شائید مجھے ایسے القابات سے بھی یاد کر رہے ہوں گے جن میں یا تو گھریلو قسم کی خواتین کا زکر ہوگا یا پھر کچھ جسمانی اعضاٴ کا۔۔۔ خیر صاحب مجھے کیا مجھے تو بس مطلب ہے تو اپنے بلاگ پیج پر پڑنے والے کِلکِس سے۔۔۔ جی جی بلکل مایا خان ٹائیپ چھاپا آننٹئیوں کی طرح۔۔۔ ریٹنگ کے لئے سالا کچھ بھی کرے گا ٹائیپ 

بہرحال اِس سب تاویل کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ تمام ہی بلاگز کم عمری کی کچھ ٹوٹی پھوٹی یادوں کو جوڑ کر آپ تک پہنچائے جا رہے ہیں۔۔۔ تو صاحب میں بچپن سے ہی اپنا ابا کے کچھ زیادە قریب رہا ہوں اور ابا کو بھی شائید مجھے وقت سے پہلے بڑا کرنے کی جلدی تھی۔۔۔ اِس کی میرے نزدیک تو بس دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ شائید وە جانتے تھے کہ اُن کے بیٹے کو ہر کام وقت اور عمر سے پہلے کرنے کا شوق ہے یا پھر وە میری تربیت شروع سے ہی اِس انداز سے کرنا چاہتے تھے کہ کچے زہن میں جو کچھ ڈالا جائے وە شائید زندگی بھر آپ کے ساتھ رہتا ہے۔۔۔ خیر صاحب وجہ کوئی بھی اِس کا فائیدە صرف اور صرف مجھے ہی ہوا ہے۔۔۔ تو بس ایک دِن ابا کہیں جارہے تھے اور اُنہوں نے والدە صاحبہ کو مجھے بھی تیار کرنے کا کہا بس مجھے کیا تھا فٹافٹ تیار ہوا اور ہو لیا ابا کے ساتھ۔۔۔ کچھ اچھی طرح یاد نہیں کہ ابا اور میں بس پر سوار ہوئے یا ابا کے کسی دوست کی موٹرسائیکل پے بیٹھے (اُن دنوں ابا کے پاس اپنی کوئی سواری نا تھی اور ہم عام طور سے بس یا ٹیکسی میں سفر کیا کرتے تھے) تو چل پڑی سواری کراچی کے ایک مضافاتی علاقے اسٹیل ٹاوٴن سے۔۔۔ شام شائید ڈھل رہی تھی کوئی آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم لانڈھی کی ایک چھوٹی سی گلی میں جا پہنچے جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا ایک شامیانہ لگا ہوا تھا اور کُل ملا کے دس سے بارە افراد کچھ ڈرے سہمے سے کھڑے تھے۔۔۔ یہ تمام ماحول دیکھ کر ہمارے دماغ میں بہت سے سوال ابھرے جیسے کے جب شامیانہ لگا ہوا ہے تو کھانے کی دیگوں سے اُٹھتا ہوا دھواں اور کھانوں کی خوشبو کیوں نہیں ہے، شامیانے کے آس پاس یا اندر سے گانے بجانے اور ڈھول ڈھمکے کی آوازیں کیوں نہیں آرہی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ زرق برق جوڑوں والی جھلملاتی آنٹئیاں، خالایں اور باجیاں کہاں ہیں۔۔۔ بحر حال اُن سہمے ہوئے لوگوں کی ایک عجب حرکت یہ بھی تھی کے وە وہاں سے گزرنے والے ہر ایک شخص کو بہت مشکوک انداز سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ وە الگ بات ہے کے وہاں کھڑے لوگوں کے چہروں پرطاری خوف کی وجہ ہمیں اب جا کر سمجھ آئی ہے تو آپ کو بھی بتا دیتے ہیں کہ  اُس خوف کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ شاە فیصل مسجد اسلام آباد میں مدفون ایک صاحب کا اُس وقت کے سیاسی لوگوں سے بے پناە پیار تھا جو اُس وقت صدرِمملکت تھے۔۔۔ خیر صاحب کچھ ہی دیر میں کچھ اور لوگ وہاں پہنچے اور شامیانے میں بچھی فرشی نشستوں پر براجمان ہو گئے۔۔۔ اب وہاں موجود افراد کی تعداد کُل ملا کے بھی ٢٠ سے زیادە نہ تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سفید کرتا پاجامہ اور کالی ویسٹ کوٹ میں ملبوس الطاف بھائی بڑی ہی شان سے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ شامیانے میں داخل ہوئے خوداعتمادی کا عالم یہ تھا کہ جیسے شامیانے میں ١۵سے٢٠ نہیں بلکہ شائید پندرە بیس ہزار افراد کا کوئی مجمع اُن کا منتظر ہو۔۔۔ میں اُس عمر میں بھی میں اُن کی شخصیت کے اِس پہلو سے متاثرہوئے بِنا نہیں رە سکا۔۔۔ جہاں تک میری یادادشت کام کرتی ہے بغیر کسی تاخیر کے تقریب جسے لوگ "تربیتی نشست" کہہ رہے تھے کا آغاز کر دیا گیا۔۔۔ الطاف بھائی سے ہوئی پہلی ملاقات سے اِس تربیتی نشست کے وقفہ میں جو شائید کچھ ہفتوں پر محیط تھا گھر میں ابا کی الطاف بھائی سے متعلق کچھ نہ کچھ باتیں سننے کا اتفاق ہوا تو میں نے اپنے آپ ہی اُنہیں آئیڈیلائیز کرنا شروع کردیا تھا۔۔ 

قصہ مختصر یہ کہ الطاف بھائی کچھ آٹھ دس چوکیوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے اسٹیج پر تشریف فرما تھے یہ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کے اُن سے پہلے کسی نے اُس نشست سے خطاب کیا یا نہیں مگر مجھے جیسے جناب الطاف حسین کی اُس روز کی ہوئی تقریباً پوری ہی تقریر یاد ہے اور اُس کی وجہ کچھ اور نہیں صرف مقرر کی موضوع پر گرفت اور اندازِخطابت تھا۔۔۔ الطاف بھائی نے اپنے خطاب کی ابتدا "اعوذوبالله مِن اشیطان الرجیم" اور "بسم الله الرحمن الرحيم" کے ترجمے اور تشریح سے کی اور پھر سورەِ فاتحہ کی تلاوت اور لفظ بلفظ ترجمے کے ساتھ ساتھ تشریح بیان کرتے گئے اور پوری تربیتی نشست کا موضوع جیسے سورەِ فاتحہ اورالله تعالی کی طرف سے اتارے گئے اِس سورۃ کے ایک ایک لفظ کے گِرد جیسے گھومنے لگا۔۔۔ میں نے پہلی بار کسی مقرر کو موضوع پے اتنی مظبوط گرفت کے ساتھ گفتگو کرتے سُنا تھا۔۔۔ گو کے میری عمر اُس وقت کچھ زیادە نہیں تھی مگر یہ بات طے ہے کے میں آج تک وە تقریر اور تقریب بھلا نہ سکا ہوں۔۔۔ شائید وە تقریر میری اب تک کی سنی ہوئی بہترین تقاریر میں سے ایک ہے یا شائید سب سے بہترین۔۔۔ 

خطاب کے اختیتام پر جس کا دورانیہ کم و بیش پونے گھنٹے کا رہا ہو گا ساتھیوں کے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور الطاف بھائی نے تقریباً تمام ہی ساتھیوں کو تسلی سے جوابات دے کر مطمئن کیا۔۔ اِس سوال جواب سیشن میں ایک ساتھی کی جانب سےایک ایسا سوال اُٹھایا گیا کہ جس پرملنے والے جواب نے کم از کم مجھے آج اُٹھنے والے ایک سوال کا جواب دو، ڈھائی دہائیوں پہلےہی دے دیا تھا۔۔۔ سوال تو پورا مجھے یاد نہیں مگر سوال کے متن میں کہیں ایم کیو ایم کو ایک سیاسی جماعت کہا گیا تھا جس پر الطاف بھائی نے اُن ساتھی کی فوری تصحیح کی کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔۔۔ اُن کا کہنا تھا کے سیاسی جماعتیں سیاست کرتی ہیں اور تحاریک میں حرکت اور جدوجہد ہوتی ہے جو نہ کبھی رکتی ہے اور نہ ہی کبھی ختم ہوتی ہے کیونکہ اگر تحاریک متحرک نہ رہیں تو وە تاریخ کا حصہ بن جایا کرتی ہیں۔۔۔

بات بہت جامع اور مکمل تھی مجھےتو آج تک یاد ہے اور شائید یہی وجہ ہے کہ لانڈھی کے ایک کونے میں تربیتی نشست کا اِنقعاد کرنے والی اُس تحریک کو آج پاکستان کے ہر کونے میں جانا اور مانا جاتا ہے۔۔۔ 


اگر آپ کو آج کی قسط پسند آئی ہے تواگلی قسط کے لئےیوں ہی اپنی کمپیوٹر اسکرین سے جُڑے رہئیے اور اگر پسند نہیں بھی آئی تب بھی جڑے ہی رہئیےشائید اگلی والی پسند آجائے۔۔۔



AK
The writer may be followed on:
Twitter: Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com


No comments:

Post a Comment