کھُلا ڈُلا خط
بنام عزت معاب وزیرِاعظم اِسلامی جمہوریہِ پاکستان
جناب محترم میاں محمد نواز شریف صاحب
السلام وعلیکُم!
ہم یہاں خیرئیت سے ہیں اور آپ کی خیرئیت بھی خداوندِکریم کی زات سے نیک مطلوب ہے۔۔۔ حضور ہم اور ہمارے آگے پیچھے پھرنے والے قریباً سب ہی احباب آپ کی صحت اور لمبی عمر کے لئے ہمیشہ ہی دعاگو رہا کرتے تھے مگر اِس بار جب سے آپ اِسلام آباد مُنتقل ہوئے ہیں آپ کے حُسن پہ تو جیسے چار چاند ہی لگ گئے ہیں اور وە چار چاند کوئی اور نہیں آپ کے بہت ہی قریبی جناب چوہدری داخلہ صاحب، اپنے جنابِ عابد شیر بجلی صاحب، جناب رانا قانونِ پنجاب صاحب اور ہم سب کے جانے مانے صحافی ٹائیپ مُنشی جنابِ عرفان انکل سرگم شامل ہیں۔۔۔
خیر حضور قصہ مختصر یہ کہ کئی مہینوں کے بعد آج جب آپ نے قومی اِسمبلی کو عزت بخشی تو میں اور مجھ جیسے کئی احباب آپ کے مُمکنہ خطاب اور اُس کے بعد پیدا ہونے والی مُمکنہ صورتِ حال سے نہ صرف خوفزدە تھے بلکہ ہم نے تو راەِ فرار کا مُکمل ارادە بھی کر لیا تھا۔۔۔ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ شائید آپ انتخابات سے قبل کئے گئے اپنے وعدے یا تو بھُول گئے ہیں یا پھر ہمارے حقیقی خیر خواە وە تمام ہی اصحاب جن کا زکر ہم نے اوپر والے پیراگراف میں کیا ہے آپ نے اُن کی بات سننا اور اُن کے مشوروں پے کان دھرنا بند کر دئیے ہیں۔۔۔
مگر آپ کی آج کی تقریر کے بعد ہمارا یہ گُمان شدید یقین میں تبدیل ہو گیا ہے کہ حضور کو اِس مُلک کے ١٨ کروڑ عوام، فوجیوں، پولیس اہلکاروں، پولیو رضاکاروں اور اقلیتوں کا خیال ہو نہ ہو مگر حضور کا دل ہماری محبت سے سرشار اور ہمارے مسائل سے کبھی غافل نہیں ہو سکتے۔۔۔ آپ کے آج کے خطاب سے یہ بھی طے ہو گیا کہ کم از کم ہمارے جیسے سب ہی احباب کے لئے یہ ملک اور اِس سر زمین سے زیادە محفوظ اور کوئی مقام ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ اب سوال صرف اور صرف یہ باقی رە جاتا ہے کہ یہ جو مزاکراتی بِگُل آپ نے آج بجایا ہے اِس کا اطلاق صرف اور صرف طالبانی طرز کے قاتلوں اور جرائم پیشہ حضرات پر ہوتا ہے یا مجھ جیسے ناچیز بھی اِس عمل سے کچھ فائیدەاُٹھا سکتے ہیں جو کراچی جیسے شہر کے معصوم عوام اور تاجروں کا جینا حرام کئیے ہوئے ہیں؟؟؟
ویسے آپس کی بات ہے حضور جب آپ نے کراچی میں آپریشن شروع کیا تھا اور دنیا کی تاریخ کے سب سے قدیم ترین وزیرِاعلی جناب ہمیشہ سے قائم علی شاە صاحب کو اُس آپریشن ٹائیپ کسی چیز کا کپتان مُقرر کیا تھا ہم تو تب سے ہی اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادە محفوظ محسوس کرنا شروع ہو گئے تھے کیونکہ ایک بات جو روزِاول سے طے تھی کہ یہ آپریشن "ٹاگیٹیڈ" ہو گا تو ہم تب سے ہی مطمئن تھے کے ٹارگیٹ کِلر بھی کبھی ٹارگیٹ بنا ہے اور پھر جِن لوگوں کو اِس آپریشن کے زریعے ٹارگیٹ بنایا جانا تھا وە تو پہلےہی سے ہمارے جیسے لوگوں کے ٹارگیٹ پر تھے تو اِس طرح تو ہم پہلے سے ہی وە کام کر رہے تو جِس کے لئے اتنی دھوم دھام سے سرکار تیاری کر رہی تھی یعنی کے کراچی کے معصوم عوام کو نشانہ بنانا تو اِس طرح تو ہم بھی سرکار کے اِتحادی ہوئے نہ حضور وە آپ کیا کہتے ہیں "اِسٹیک ہولڈر"۔۔۔
حضور آپ کی آج کی حوصلہ افزا تقریر اور مولانا عمران الرحمان کے جوابی خطبات سننے کے بعد اب آپ سے بس یہی درخواست ہے کے اپنی مزاکراتی ٹیم کو حکم صادر فرمائیے کہ جلد از جلد کراچی کا ایک دورە فرمائیں ہم سے اور ہمارے جیسے اصحاب سے بس ایک ملاقات کرلیں اور ہماری تمام ہی شرائط بِنا کسی حُجت کے مان جائیں اور پھر ہمارے مزاکرات طالبانی طرز کے حضرات سے بھی لگے ہاتھوں کرواڈالیں تاکہ ہم تمام ہی افراد مِل جُل کر اِس ملک اور اِس میں رہنے والے عوام کی ایسی تیسی کر سکیں اور آپ اور آپ کے اہلِخانہ سکون سے یوں ہی اگلے پانچ سال حُکمرانی کرتے رہیں۔۔۔
حضور بڑی ہمت کر کے آپ کو یہ رُقعہ تحریر کیا ہے کیونکہ ایک بات تو طے ہے کہ آپ سے بہتر ہمارے دُکھ اور درد کو سمجھنے والا اور یہاں کون ہے۔۔۔
فقط والسلام
آپ کا شدید اپنا
نامعلوم
AK
Sent from my iPad
No comments:
Post a Comment