Thursday, March 13, 2014

آفریدی، آفریدی ہوتا ہے۔۔۔

آفریدی، آفریدی ہوتا ہے۔۔۔

کہتے ہیں اپنا قد بڑا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بونوں کے بیچ کھڑے ہو جاو خودبخود بڑے لگنے لگو گے اور جب بہت بڑا بننا چاہو تو اپنے سے بڑے سے پنگا لے لو۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کون کہتے ہیں؟؟؟ تو صاحب ایسا کہنے کی ہمت اب مجھ جیسے بیوقوف اور کم عقل کے سوا اور کر بھی کون سکتا ہے۔۔۔

بس اسی ارادے سے آج کے دن کی شروعات کی ہے اور سوچا کیوں نا آج اپنے سے زیادە بڑے، طاقتور، قابل، پڑھے لکھے اور فرفر انگریزی بولنے، لکھنے اور سمجھنے والوں سے پنگا لیا جائے۔۔ شائید اسی بہانے لوگ مجھ غریب فقیر اردو لکھنے بولنے سننے سمجھنے والے کو بھی جان لیں اور شائید مجھ غریب کا قد بھی اتنا بڑا نہ سہی کوئی دو چار انچ ہی بڑھ جائے۔۔  

تو صاحب عنوان پے واپس آتے ہیں پچھلے دنوں دانتوں گیند چبانے والے ہمارے ایک کرکٹر بھائی نے ڈھاکا کے شیرِبنگلا اسٹیڈیم میں اُس وقت اچانک اُدھم مچانا شروع کر دیا جب پاکستانی قوم بھارت کے خلاف میچ تو نہیں مگر ہمت تقریباً ہار ہی چکی تھی اور مجھ سمیت سب ہی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ اب سوشل میڈیا خاص طور فیس بک اور ٹوئیٹر پر اب اپنے بھارتی دوستوں سے جو عزت ہمیں ملنے والی ہے اُس سے کیسے بچا جائےگا۔۔۔ مگر صاحب وہی آفریدی جس کے بارے میں چھنوں کی آنکھ کے نشے میں دھت ایک تازە ترین انڈین فلمسٹار اپنے ٹوٹل سیاپے میں یہ کہتے پائے گئے تھے کہ "یار آفریدی سے تو ہم بھی پریشان ہیں" جی اُسی آفریدی نے بس کھیل کے آخری کچھ اووروں میں پورے ہندوستان کو ایسے سیاپے میں ڈال دیا کہ جب"پچاس پچاس کوس دور گاوٴں میں بچہ رات کو روتا ہے تو ماں کہتی ہے کہ بیٹے سو جا، سو جا نہیں تو آفریدی بیٹنگ کرنے آجائے گا"۔۔ تو جناب دنیا میں سب سےزیادە چھکے لگانے والے اُسی آفریدی نے ناصرف اُس روز بھارت کے چھکے چھڑائے بلکہ اگلے میچ میں ہی اپنے بنگالی بھائیوں کے خوب طوطے بھی اُڑائے۔۔ آپ کا تو مجھے نہیں معلوم مگر آفریدی نے ملک کے اس ٹینشن زدە ماحول میں جیت کی خوشی میں بھنگڑے ڈالنے کا جو موقع دیا وە شائید اُن خاتون کے آسکر جیتنے والے دن بھی ہمیں نصیب نہ ہوا۔۔ اِس بات سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اُن خاتون نے آسکر جیت کر کوئی تیر نہیں مارا تھا، مطلب صرف یہ ہے کہ کرکٹ سے جو جزباتی لگاو ہمیں ہے وە شائید کسی فلم سے ہمیں کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔۔ 

آپ تو جانتے ہی ہیں کرکٹ اور نمی (ڈیو) کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس نمی سے کبھی ہاتھوں سے گیند پھِسل جاتی ہے تو کبھی کرکٹر کے منہ میں پڑی بیچاری زبان۔۔ سنا ہے پچھلے دنوں ہمارے آفریدی کی زبان کہیں پھِسل گئی اور اُس کیوٹ ترین آدمی کو کچھ لوگوں کی نظر میں گبر بنا گئی۔۔ وہی آفریدی کہ جس کے قصیدے پچھلے ہی ہفتے تک شدید سُپر ہِٹ چل رہے تھے اب اُسی آفریدی پر انگریزی زبان میں بلاگ لکھ کر زیادە سے زیادە ہِٹس اور ریٹوئیٹ حاصل کرنے کی کوشش میں دن رات ایک کئے جا رہے ہیں۔۔ اسپورٹس کے ایک سینئیر صحافی سے جب میں نے اس بارے میں رائے مانگی تو اُنھوں نے فرمایا کہ "اعتراض اُس بات پر نہیں اُٹھایا جا رہا جو کہی گئی ہمارے یہاں کم و بیش ہر باپ ایسے ہی سوچتا ہے اعتراض لوگوں کو صرف آفریدی کے یہ بات کرنے پر ہے" جس پر میں نے اُن حضرت یہ پوچھا کہ کیا آپ جانتےہیں کہ آج بھی کراچی جیسے شہر میں ایسے کتنے بیٹے موجود ہیں جو اپنے باپ کی مرضی کے بغیر نویں جماعت میں سائنس اور آرٹس تک منتخب نہیں کرسکتے تو کیا میں اِس ملک کے سب بیٹوں کی ایک "بیٹا قومی موومنٹ" شروع کر دوں؟؟؟ کیا ہمیں اُن تمام بیٹوں کے باپوں کے خلاف ایک لانگ مارچ شروع کر دینی چاہئے؟؟؟ یا پھر کوئی باپ بدلو تحریک؟؟؟ 

کہنے کا مطلب صرف اور صرف اتنا ہے آفریدی ایک کرکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا باپ بھی ہے جس کی چار بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹی کا باپ ہونے کے ناطے میں ایک بات تو وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آفریدی کو بھی اپنی بیٹیوں پر اُتنا ہی فخر ہوگا جتنا مجھے یا کسی اور بیٹی کے باپ کو یا آفریدی کے بارے میں بلاگ لکھنے والی بیٹی کے باپ کو اپنی بیٹی پر ہوگا۔۔ اور مجھے تو شائید اپنے بیٹے سے زیادە بلکہ کہیں زیادە اُمیدیں اپنی بیٹی سے ہیں مگر اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں اپنی بیٹی کے ہاتھ کے پکے مزیدار کھانےنہیں کھانا چاہتا۔۔  پاکستان کی جن کامیاب ترین خواتین کا زکر آفریدی کے بارے میں لکھے گئے بلاگ میں کیا گیا ہے وە سب کامیابیوں کے باوجود بھی پہلے اپنے باپ کی بیٹیاں ہیں پھر کچھ اور، بلکل اُسی طرح جیسے آفریدی اور میں پہلے اپنی بیٹیوں کے باپ اور اُس کے بعد کچھ اور۔۔ 

ہمیں کسی کے بھی بارے میں ججمنٹل ہوکر بلاگ لکھنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہئیے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اُس کے اثرات ہماری زندگیوں میں ضرور نظر آئیں گے۔۔ اِس معاشرے میں اِسٹیو جابز نہیں بلکہ فلحال ملک ریاض ہی پیدا ہوں گے اور اِس ملک کے صدر اوباما صاحب نہیں بلکہ ممنون صاحب ہی ہوں گے اور شُکر کیجیۓ آپ اِس معاشرے کی ایک بیٹی ہیں کیونکہ اِس معاشرے میں شائید بیٹی ہونا آسان مگر ایک بیٹی کا باپ ہونا بہت ہی مشکل ہے اور آپ کو اِس مشکل کا اندازە شائید کبھی بھی نہ 
ہو کیونکہ آپ ایک بیٹی تو بن سکتی ہیں ایک بیٹی کا باپ کبھی بھی نہیں۔۔ 


AK
Sent from my iPad
Twitter: @Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com

1 comment:

  1. جن خاتون نے وہ بلاگ لکھا تھا، ذرا ان سے پوچھیں ناں، کہ جس حقوق نسواں کا وہ نعرہ لگا رہی ہیں، اس کا فائدہ انھوں نے ڈان نیوز میں رہتے ہوئے کیسے اٹھایا تھا؟ کس طرح ڈان نوز ٹی وی کو ڈوبایا تھا ۔۔

    ReplyDelete