Tuesday, October 21, 2014

بول جیو بول

بول جیو بول

ہائے وە بھی کیا دن تھے جب ہمارے گھروں میں لڑنے جھگڑنے اور لگائی بُجھائی کا کام صرف خواتین کے ذمہ ہوا کرتا تھا۔۔ کہیں ساس بہو کا جھگڑا تو کہیں نند اور بھابھی کا پھڈا۔۔ وقت بدل گیا، بلیک اینڈ وہائیٹ ٹی وی کی جگہ بڑی بڑی ایل سی ڈی اسکرینز نے لے لی اور بڑے بڑے تاروں والے ٹیلیفونوں کے بدلے پیارے معصوم نازُک مزاج اسمارٹ فونز نے لیلی۔۔

اب جب سب کُچھ بدل ہی رہا تھا تو پھر پھاپھے کُٹنیاں کیسے پیچھے رہتیں؟؟؟ تو بس کیا تھا نکل پڑیں بھیس بدل کر ٹیکنالوجی کا سہارا لئے ٹی وی اینکر کا بھیس بدلے آگ لگانے اور لگی لگائی آگ کو مزید بڑھاوا دینے۔۔ ارے آگ سے یاد آیا ہمارے ٹی وی پر "آگ" نام کا ایک چینل بھی ہوا کرتا تھا اور اُس پر بار بار یہ کہا جاتا تھا کہ "آگ لگا دو" اور پھر یہ سُن کر ہم آگ لگا بھی لیا کرتے تھے۔۔ راوی کہتا ہے کہ وە کوئی نوجوانوں کا چینل قرار پایا تھا مگر ہمیں تو اُس چینل یعنی کہ آگ میں نوجوانوں کے لئے کوئی آگ نظر نہیں آئی۔۔ یا پھر شائید ہم نوجوانی کا سفر طے کر کے کہیں کسی دوسرے چوک پر پہنچ گئے تھے جو اُس آگ کو سمجھ نا پائے تھے۔۔ ارے نہیں بھئی اگلے چوک کا نام ڈی چوک بلکل بھی نہیں تھا ویسے بھی ڈی چوک جانے کے لئے آپ کا نوجوان ہونا بہت ضروری ہے اور ہم تو اب اگلے چوک پے پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیر ہمیں کیا نا تو ہم نوجوان ہیں اور نہ ہی ہمیں آگ سے کھیلنے کا کوئی شوق مگر ہمارے مُلک میں آگ سے کھیلنے کےشوقین کُچھ حضرات میں سے میرے محسنان اور کرم فرما جناب میر شکیل اُلرحمٰن اور اُن کے صاحبزادے جناب میر ابراہیم رحمان کو سرِفہرست سمجھا جاتا ہے۔۔ بہرحال اُن کی یہ عادت جہاں بہتوں کو ناگوار گُزرتی ہے وہیں اِس ملک کے کچھ بڑے لوگوں کو متاثر بھی کر گئی اور میر صاحبان کے دیکھا دیکھی کئی لوگوں نے میڈیا ہاٴوسز اور نیوز چینلز کھول کر طاقت کے نشے کو چار چاند لگانے کی ناکام کوشش کی۔۔ اُن ناکام لوگوں کی فہرست بہت لمبی ہے اور مختصر بھی ہوتی تو میں اُن کے نام یہاں نا لیتا کیونکہ نوکری تو مجھے بالآخر اِسی انڈسٹری اور انہی سیٹھوں کی کرنی ہے اور اتنے بڑے شیروں سے بیر لیکر پہلے ہی بہت بدنامی گلے پڑے ہوئی ہے جس سے جان چھڑانا اب ممکن نظر نہیں آتا مگر آپ پریشان نہ ہوں بس اشارتاً اتنا سمجھ لیجئیے کہ پاکستان میں چلنے والے آدھے سے زیادە نیوز چینلز جو اب تک نمبر ون پر نہیں پہنچ سکے ہیں میر صاحبان کی دیکھا دیکھی اس کارِخیر کی طرف راغب ہوئے تھے مگر مُنہ کی کھا کے اور مُنہ چھپا کہ بس اِدھر اُدھر ہو گئے تھے۔۔ 

پچھلے چند ماە میں وقت اور حالات کی نزاکت کا فائدە اُٹھا کر موقع پرستی کی معراج چھُوتے تقریباً ان تمام نیوز چینلز نے ہی نمبر ون بننے کا نا صرف خواب دیکھا بلکہ اُس کی تکمیل کیلئیے لگے سرپٹ دوڑنے اور کئی سالوں سے نمبر ون رہنے والے نیوز چینل کے بند ہونے کا بھی بھرپور فائدە نہیں اُٹھا سکے اور اب اُس چینل کی دوبارە بحالی پر مُنہ کے بل زور سے گرے اور واپس دو نمبر چینل بن کر رە گئے۔۔ خیر میڈیا کےاس سحر میں کئی برس سے گرفتار آئی ٹی کی ایک بہت بڑی یا شائید سب سے بڑی کمپنی کے مالک نے بھی اِس کھیل کا حصہ بننے کی نیت فرمائی یا شائید کسی نے اُن کی یہ نیت کروادی اور لگے ہیں صاحب پاکستان یا پھر بقول اُن کے دنیا کے سب بڑے میڈیا ہاٴوس کی بنیاد رکھنے۔۔۔ اِس کارِخیر کیلئے اُنہوں پاکستان کے سب سے زیادە تجربہ کار اور سینئر ٹی وی اینکر جناب کامران خان صاحب کا انتخاب فرمایا بلکہ کُچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ شائید خان صاحب نے اِس نیک کام کےلئے اُن کا انتخاب کیا ہے۔۔ جب سےاِس نئے چینل کی آمد کی خبر پھیلی ہے پاکستانی میڈیا کی دنیا میں خوشی کا ایک سماٴ سا ہے ہر کوئی اپنے جزبات کو ایکسپریس کرنے کیلئے اب تک بےچین ہے دیکھئے کس کا وقت کس دن آتا ہے اور کون میڈیا کے اس نئے ڈان کی ٹیم کا حصہ کب بنتا ہے۔۔ 

خیر جسے جس کا حصہ بننا ہے بنے مگر جیو نیوز کے رہتے کم از کم ہمیں تو کوئی دوسرا نیوز چینل نمبر ون بنتا دکھائی نہیں دیتا اور اُس کی بہت سی وجوہات ہیں۔۔ سب سے پہلے تو ہمارے تمام ہی دوست یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ نئے آنے والے چینل کے پاس سرمائے کی کوئی کمی نہیں ہے تو بھائی اِس بات کا سیدھا سا جواب یہ ہےکہ اگر صرف سرمایہ ہونا ہی نمبر ون نیوز چینل ہونے کی واحد وجہ ہوتی تو اب سے پہلے آنے والےسب چینلز فلاپ کیوں ہوتے؟؟؟ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ تو نا اے آر وائی کے پاس کبھی کم تھا نا ایکسپریس نیوز والے اب تک دیوالیہ ہوئے اور نہ ہی دنیا نیوز کے مالک میاں صاحب اب تک کنگال ہوئے تو پھر اِن میں کسی کا بھی نیوز چینل آج تک نمبر ون کیوں نہیں ہو سکا؟؟؟ دوسری بات جس سے تقریباً تمام ہی دوست جو اب تک شعیب شیخ صاحب سے شرفِ ملاقات حاصل  کر چکے ہیں مرعوب دکھائی دئیے وە ہے اُن کا وژن اور زہانت۔۔ تو جناب شیخ صاحب کی زہانت پر تو کوئی بیوقوف ہی شک کر سکتا ہے کیونکہ اُن کی آئی ٹی کمپنی اُن کی زہانت کا چلتا پھرتا ایک شاہکار ہے۔۔ جتنے کم عرصے میں اُنہوں نے اتنا کامیاب بزنس ایمپائیر کھڑا کیا اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے مگر ایک کامیاب آئی ٹی کمپنی بنانا اور چلانا نمبر ون نیوز چینل بنانے اور چلانے سے بلکل مختلف بات ہے اور شائید یہی وجہ ہے کہ ایک سال سے زائید کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک باتوں کے علاوە کُچھ اور بنتا دکھائی نہیں دے رہا۔۔ ایک اوراہم بات یہ ہے کہ مارکیٹ سے کمپیٹیشن ختم کر کے ایک کامیاب آئی ٹی کمپنی تو شائید بنائی جا سکتی ہے مگر میڈیا کی سائنس زرا الگ سی دیکھی اور سیکھی ہےہم نے تو اگر کاروباری سوچ کے ساتھ ایک ٹی وی چینل بنانا اور چلانا مقصود ہے تو طریقہِ کار پر نظر ثانی بہت ضروری ہے ہاں اگر چینل لانے کے پیچھے کچھ اور مقاصد و عوامل جیسا کہ پاکستان کے نمبر ایک چینل کو جڑ سےاکھاڑ کر پھینکنا یا پوری انڈسٹری میں کسی بھی قیمت پر اپنی مونوپولی قائم کرنا وغیرە کار فرما ہیں تو پھر سترە کیا سترە سو چہرے (ٹی وی اینکرز) بھی کم پڑیں گے۔۔

جب بات کاروبار کی آہی گئی ہے تو آپ ہی زرا اپنی عقل استعمال کر کے اتنا بتائیے کہ جب آپ ایک چھ لاکھ روپے پر کام کرنے والے اینکر کو پچاس لاکھ روپے پر اور چار لاکھ والے کو تیس لاکھ  روپے ماہانہ پر ملازمت دیں گے اور ایک لاکھ روپے میہنے والے پروڈیوسر کو تین لاکھ روپے ماہانہ صرف تنخواە کی مد میں دیں گے تو آپ ایک نئے آنے والے چینل کے اخراجات کو شائید پوری انڈسٹری کے ریوینیو سے بھی اوپر لے جائیں گے۔۔ ویسے تو کوئی بھی باشعور بزنس مین اس بنیادی جمع تفریق کے بعد ہی یہاں تک پہنچتا ہے مگر پوری انڈسٹری کے ریوینیو سے زیادە یا اُس کے برابر کے اخراجات رکھنے کی کوئی تو سائنس ہو گی جو مجھ غریب کی عقل سےکافی بالاتر ہے۔۔ چلئے تھوڑی دیر کیلئے فرض کر لیتےہیں کہ بول کا بزنس پلان ایک دم درست ہے اور آج نہیں بلکہ آنےوالے پانچ سالوں تک یہ میڈیا ہاٴوس بِنا منافع کے بھی چلتا رہے گا مگر جب آپ ایک ساتھ پاکستان کےسترە سینئیر ترین اینکر حضرات کو جن میں سے بیشتر اپنے موجودە ٹی وی چینلز پر پورے ہفتے میں کم سےکم تین اور زیادە سے زیادە پانچ دن ایک گھنٹہ ہر روز آن ائیر ہوتے ہوں اُن سب کو ایک نیوز چینل پر کس طرح فِٹ کیا جائے گا؟؟ کیا دن کے گھنٹے چوبیس سے بڑھا کر اڑتالیس کروالئیے جائیں گے یا پھر چینلز کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو یا تین کر دی جائیگی؟؟؟ پہلی صورتِ حال تو قدرے ناممکن ہے ہاں مگر اگر دوسرے آپشن پر غور کیا جائے تو کسی حد تک کامیابی ملنے کا امکان ہے ہاں مگر اخراجات کے دو سے تین گُنا ہونے کے امکانات بہت روشن ہیں۔۔ بہر حال ابھی تو تیل دیکھئے اور تیل کی دھار پھر دیکھئیے کہ کِس کِس کے پلان تیل ہوتے ہیں اور کون کون خود تیل ہوتا ہے۔۔

مگر آپ جو بھی کہئیے سوچئے یا سمجھئیے میر شکیلُ  الحمٰن کے ساتھ کام کرنے کا جو تھوڑا بہت میرا زاتی تجربہ ہے ایک تو مجھے وە ہار مانتے نظر نہیں آتے دوسرا اُن کے وژن اور سوچ تک پہنچنا اُن کے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے "میڈیا آئیکونز" کے بس کا روگ نہیں لگتا۔۔ میں تو ہمیشہ سے ہی یہ کہتا چلا آرہا ہوں کہ اگر کسی کو واقعی جیو نیوز اور جنگ گروپ کے دروازوں پر تالے ڈلوانے ہیں تو میر شکیل صاحب کے ملازموں کو ملازمت پر رکھنے سے بہتر ہے کہ خود میر صاحب کو ایک آفر لیٹر بھیجوا دیا جائے ایسا کرنے سے نا صرف آپ کا پیسہ اور وقت ضائع ہونے سےبچے گا بلکہ آپ کو اپنے مقصد کے حصول کے لئے زیادە دماغ بھی کھپانا نہیں پڑے گا۔۔ رہی بات جیو کی تو نا جانے مجھےایسا کیوں لگتا ہے کہ اُس کے ہارنے کا وقت ابھی بھی تھوڑا دُور ہے باقی میر شکیلُ الحمٰن  صاحب المعروف ایم ایس آر کے دماغ کا کوئی بھروسہ نہیں وە کبھی بھی کوئی بھی "نئی بات" کر سکتےہیں۔۔۔

میں نے جو بولنا تھا بول دیا آگے آپ لوگ خود سمجھدار ہیں !!


AK
Sent from my iPad
Twitter: @Khan_Arsalan
Gmail: arsalankhan.khi@gmail.com

No comments:

Post a Comment